اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمرنے کہا ہے کہ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ سرکاری ایس او پیز پر عمل کر ے تاکہ کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا جا سکے، لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا، زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ہیں اب عمل درآمد کا مرحلہ ہے،نیشنل کمانڈ اینڈ آ پریشن سینٹر …
نیشنل کمانڈ اینڈ آ پریشن سینٹر کورونا وائرس کے حوالے سے اچھے انداز میں کام کر رہا ہے،سول اور عسکری ادارے مل کر کام کررہے ہیں، اسد عمر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمرنے کہا ہے کہ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ سرکاری ایس او پیز پر عمل کر ے تاکہ کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا جا سکے، لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا، زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ہیں اب عمل درآمد کا مرحلہ ہے،نیشنل کمانڈ اینڈ آ پریشن سینٹر کورونا وائرس کے حوالے سے اچھے انداز میں کام کر رہا ہے،سول اور عسکری ادارے مل کر کام کررہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیشنل کمانڈ اینڈ آ پریشن سینٹر میں میڈیا بریفننگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوشی ہے کہ قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔ زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ہیں اب عمل درآمد کا مرحلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زندگی کا پہیہ چلانے کے ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے، یہاں سب مل کر ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسد عمر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ این سی سی فیصلے پر قومی اتحاد کے ساتھ عمل درآمد ہو گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا جبکہ کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر مسلسل کام کر رہا ہے۔ اب پورا ملک بند کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں پر فوکس ہو گا اور نشاندہی کرنی ہے کس علاقے میں کیسز زیادہ اور وائرس پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ساڑھے 13 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے گئے اور 70 لیب ہیں جہاں کورونا ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاوَن کے نظام نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب کے 359 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاوَن کیا گیا اور خیبر پختونخوا میں 177 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاوَن کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ اور کوئٹہ میں بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پشاور میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ 85 افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں جبکہ گزشتہ رات تک ملک بھر میں 165 افراد وینٹی لیٹرز پر تھے۔اسد عمر نے کہا کہ ایسا مثر نظام چاہیے جس میں مریض کو صحیح ہسپتال تک پہنچایا جا سکے۔ کورونا وائرس سے متعلق صحت کے ڈیٹا کے لیے ایک پورٹل بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ?حکومت ان علاقوں کو سیل کرے گی جو کورونا وائرس کے ہاٹ اسپاٹس بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ لوگوں نے ذمہ داری کے ساتھ کام کیا ہے لیکن انہیں اب وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے پابندیوں میں نرمی کے بعد احتیاطی تدابیر پر زیادہ سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے لیا گیا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بروقت فیصلوں اور اقدامات کے لئے 31 مارچ سے بغیر کسی وقفے کے کام کر رہا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے واقعات میں اضافے کی صورت میں موثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لئے ایک نظام تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کے واقعات اتنے سنگین نہیں ہیں جتنے دوسرے ممالک میں دیکھے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہم بدترین صورتحال کی تیاری کر رہے ہیں۔ اسپتالوں اور مریضوں کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے جلد ہی ایک پورٹل آپریشنل کردیا جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ ہم دیہی امداد کے پروگراموں میں بھی حصہ لے رہے ہیں تاکہ نہ صرف دیہی آبادی میں اس بیماری کے بارے میں شعور پیدا کیا جاسکے بلکہ مستحق خاندانوں کو بھی ریلیف فراہم کیا جاسکے۔








