اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے ایس ڈی پی آئی کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاﺅن ایک ماہ اور برقرار رہتا تو 9 لاکھ کاروبار ایسے ہیں جو مستقل طور پر ختم ہو جاتے‘ این سی او سی میں تمام فیصلے چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر کئے جاتے ہیں‘ حکومت نے کرونا …
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے ایس ڈی پی آئی کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاﺅن ایک ماہ اور برقرار رہتا تو 9 لاکھ کاروبار ایسے ہیں جو مستقل طور پر ختم ہو جاتے‘ این سی او سی میں تمام فیصلے چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر کئے جاتے ہیں‘ حکومت نے کرونا وائرس کی صورتحال کے دوران احساس پروگرام ‘ یوٹیلٹی سٹورز اور یوٹیلٹی بلز کے ذریعے عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ 100 سال بعد یہ مرض پوری دنیا کو لاحق ہے‘ ہمیں فیصلے سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر نہیں مستند اطلاعات اور اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت سمارٹ لاک ڈاﺅن کی طرف جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ کرونا تافتان سے آیا ہے‘ انہوں نے سوال کیا کہ امریکہ‘ سپین‘ اٹلی اور دیگر ممالک میں تافتان سے یہ وبا آئی ہے ؟ وباءچین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کو وباءکے علاج کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، یہ علاج نہیں بلکہ پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 25 فیصد سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 70 لاکھ خاندانوں نے کھانے پینے کے اخراجات محدود کر دیئے ہیں اور اڑھائی لاکھ خاندانوں نے دوستوں سے قرض لے کر گزر بسر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءسے 2018ءتک صحت کے شعبہ پر سب سے کم خرچ کیا گیا۔ ماضی کی کوئی بھی حکومت اس حوالے سے کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی نے ایک اندازہ لگایا ہے کہ اگر لاک ڈاﺅن کو ایک ماہ تک توسیع دی گئی تو ہزاروں کاروبار مستقل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کرونا کے ساتھ ساتھ بھوک سے بھی خطرہ ہے۔ این سی او سی میں تمام فیصلے چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر کئے جاتے ہیں۔ ہم نے احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو امداد فراہم کی۔ وزیراعظم کے فنڈز کو بھی احساس پروگرام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کو یوٹیلٹی بلز میں ریلیف دیا۔ رمضان پیکج کے تحت یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے 50 ارب روپے مختص کئے گئے۔ وزارت خزانہ اور سٹیٹ بنک نے سکیمیں متعارف کرائیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برصغیر میں سب سے کم ہیں۔ نیشنل کمانڈ سنٹر نے خوراک کی کہیں بھی کمی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو براہ راست حفاظتی سامان دیا گیا ہے۔ پہلے سے بھی مضبوط پاکستان سامنے آئے گا۔ حماد اظہر نے کہا کہ اس ایوان میں کوئی مایوسی پھیلانا چاہتا ہے تو خود اسے مایوسی ہوگی۔ بھارت کی اپنی ناکامیاں اس کے گلے پڑ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اعداد و شمار کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔








