اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز و چیئرمین نیشنل ٹورازم کوارڈینیشن بورڈ سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں، کورونا وباء کے خاتمہ کے بعد پاکستان میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ یہ بات معاون خصوصی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر …
پاکستان اپنے سیاحتی مقامات کی وجہ سے عالمی سیاحت کے لیے پرکشش ملک ہے کورونا وباء کے خاتمہ کے بعد ملک میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، معاون خصوصی سید ذوالفقار بخاری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز و چیئرمین نیشنل ٹورازم کوارڈینیشن بورڈ سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں، کورونا وباء کے خاتمہ کے بعد پاکستان میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ یہ بات معاون خصوصی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیرا اسحاق کے ساتھ ٹائون ہال سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کی۔ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹی ٹیوٹ کا مقصد دنیا بھر میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ پہلی حکومتوں نے سیاحت کے شعبہ کو نظر انداز کیا، پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر منفی امیج تھا جو آہستہ آہستہ تبدیل ہورہا ہے، پاکستان اپنے سیاحتی مقامات کی وجہ سے عالمی سیاحت کے لیے پرکشش ملک ہے، وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت ملکی جی ڈی پی میں سیاحت کے شعبہ کا حصہ 2.9 سے بڑھاکر7 فیصد تک کرنے کی حکمت عملی مرتب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل تھا اور اس کے لیے ورلڈ ٹورازم فورم انسٹی ٹیوٹ سے متعدد مرتبہ رائے بھی لی گئی۔ زلفی بخاری نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے زیادہ ممالک کی سیاحت کو نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس سبزے میں ڈھکے اونچے پہاڑ ، ساحل سمندر ، ریگستانی علاقے، پرانی تاریخ رکھنے والی مارکیٹس، روایتی کپڑوں اور کھانوں کی اقسام اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے مہمان نواز لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین ، ایران اور افغانستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ بھارت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے بارڈرز یورپین یونین کی طرح ہوں جس میں دونوں ممالک کے لوگ سیاحت اور کاروباری سلسلوں میں با آسانی بارڈر کراس کر سکیں۔ سید زلفی بخاری نے بتایا کہ وہ پاکستان میں سیاحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری لانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب کورونا وباء پر قابو پالیا جائے گا تو دنیا میں سیاحت کو عروج حاصل ہوگا۔








