اسلام آباد ۔ 2 جون (اے پی پی) حال میں مشہور زمانہ ڈیٹا بیس ’ گوگل سکالر ‘ نے پاکستانی مالیکیولر وائرالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے تجزیاتی مقالے ’وائرسز کی بیماریوں کا علاج پودوں سے حاصل ہونے والی ادویات کے ذریعے ‘ کو پوری دنیا کے مقالہ جات میں بہترین قرار دے دیا۔ دنیا میں کہیں بھی گوگل سکالر میں اینٹی وائرل پلانٹس سرچ کرنے سے دو لاکھ سے …
گوگل سکالر نے پاکستانی وائرالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے تجزیاتی مقالے کو پوری دنیا میں بہترین قرار دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جون (اے پی پی) حال میں مشہور زمانہ ڈیٹا بیس ’ گوگل سکالر ‘ نے پاکستانی مالیکیولر وائرالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے تجزیاتی مقالے ’وائرسز کی بیماریوں کا علاج پودوں سے حاصل ہونے والی ادویات کے ذریعے ‘ کو پوری دنیا کے مقالہ جات میں بہترین قرار دے دیا۔ دنیا میں کہیں بھی گوگل سکالر میں اینٹی وائرل پلانٹس سرچ کرنے سے دو لاکھ سے زیادہ مقالہ جات نظر آئیں گے لیکن پہلے نمبر پر پروفیسر مختار اور ان کے رفقائے کار کا مقالہ ہے۔ یہ سائنسی تجزیہ پاکستانی اور امریکی سائنسدانوں کے ایک گروپ کی کاوشوں کی وجہ سے مکمل ہوا، پوری پاکستانی قوم کیلئے قابل فخر بات یہ ہے، کہ اِس سائنسی گروپ کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے کی، جو اِس وقت نیشنل سکلز یونیورسٹی اِسلام آباد میں وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ زیر بحث مقالے میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے، کہ پودوں سے حاصل ہونے والے اجزا مہلک ببیماریاں پھیلانے والے وائرسز کے علاج کیلئے استعمال کی جا سکتے ہیں، لیکن اِن پر سائنسی بنیادوں پر تحقیق ہونی چاہیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین اور چند دوسرے ممالک نے پروفیسر مختار کے اِس نظریے کو مد نظر رکھتے ہوئے، پودوں سے حاصل ہونے واے اجزا کی سائنسی بنیادوں پر کورونا وائرس کی روک تھا م کیلئے کلینیکل ٹرائلزز بھی شروع کر رکھے ہیں۔








