نیویارک۔ 11 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر میں دنیا بھر میں اشیائے خوراک کی دستیابی کی صورت حال کے حوالے سے پیدا ہونے والی ممکنہ ہنگامی صورت حال کے خلاف خبردار کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر اگرچہ اتنی زیادہ خوراک موجود ہے کہ دنیا …
بین الاقوامی سطح پر اشیائے خوراک کی فراہمی کے موجودہ نظاموں میں جلد از جلد بہتری نہ لائی گئی تو دنیا کو ممکنہ طور پر ‘گلوبل فوڈ ایمرجنسی’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

مزید خبریں
نیویارک۔ 11 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر میں دنیا بھر میں اشیائے خوراک کی دستیابی کی صورت حال کے حوالے سے پیدا ہونے والی ممکنہ ہنگامی صورت حال کے خلاف خبردار کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر اگرچہ اتنی زیادہ خوراک موجود ہے کہ دنیا کے تمام 7.8 ارب انسانوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے، تاہم یہ بھی ایک المیہ ہے کہ آج بھی کرہ ارض پر 820 ملین یا 82 کروڑ انسان ایسے ہیں، جنہیں بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے اور اگر بین الاقوامی سطح پر اشیائے خوراک کی فراہمی کے موجودہ نظاموں میں جلد از جلد بہتری نہ لائی گئی تو پوری دنیا کو ممکنہ طور پر ‘گلوبل فوڈ ایمرجنسی’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انٹونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ ہمارے فوڈ سپلائی سسٹم پہلے ہی ناکام ہوتے جا رہے ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی وبا کے باعث یہ صورت حال خراب تر ہوتی جا رہی ہے اگر موجودہ حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نتیجہ خیز بہتری لانے والے اقدامات نہ کیے گئے، تو عالمی سطح پر مزید 49 ملین یا تقریباپانچ کروڑ انسان انتہائی حد تک غربت کا شکار ہو جائیں گے۔








