اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزارت صحت کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ حکومت نجی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے علاج معالجے کی رقم ادا کرے گی' تمام ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں کورونا وائرس سے بچائو کے لئے مقررہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں' کسی بھی سطح پر حکومت لاک ڈائون کے حوالے سے …
حکومت کسی بھی سطح پر لاک ڈائون کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار نہیں رہی، ڈاکٹر نوشین حامد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزارت صحت کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ حکومت نجی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے علاج معالجے کی رقم ادا کرے گی’ تمام ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں کورونا وائرس سے بچائو کے لئے مقررہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں’ کسی بھی سطح پر حکومت لاک ڈائون کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار نہیں رہی’ ہم اب بھی کہتے ہیں کہ پاکستان لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ تنقید کرنے والے تھر میں تو لوگوں کو بھوک سے بچا نہیں سکے کورونا کی صورتحال میں کیسے بچائیں گے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں صدارتی خطاب کے حوالے سے تحریک تشکر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت کورونا کے حوالے سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے۔ کورونا کے حوالے سے وزیراعظم کی سربراہی میں این سی او سی اعلیٰ ترین فورم ہے۔ اس فورم پر تمام صوبوں کی مشاورت سے پالیسی بنا کر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان این 95 ماسک بنانے کی پوزیشن پر آگیا ہے۔ اب ہم یہ دیگر ممالک کو بھی فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پورے ملک میں 107 لیبارٹریاں قائم ہیں جن کی روزانہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 46 ہزار ہے۔ جلد ہی ڈبلیو ایچ او کا ٹارگٹ بھی حاصل کرلیں گے۔ این ڈی ایم اے کے ذریعے وینٹی لیٹر حاصل کئے جارہے ہیں۔ چین نے ہمیں 100 وینٹی لیٹر فراہم کئے ہیں۔ پہلے پورے پاکستان میں صرف 2200 وینٹی لیٹرز تھے اس وقت کے پی کے میں 5 ہزار سے زیادہ آکسیجن کے ساتھ بیڈز ہیں اور وہاں 340 سے زائد وینٹی لیٹرز بھی موجود ہیں۔ پنجاب میں 387 وینٹی لیٹرز میں سے 159 استعمال کئے جارہے ہیں۔ رواں ماہ پنجاب میں ہزار آئی سی یو بیڈز کی تیاری مکمل کرلی جائے گی۔ پنجاب کے ہسپتالوں میں47 فیصد بیڈز خالی ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کے ساتھ ایم او یو کیا جارہا ہے جس کی ادائیگی حکومت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 209 کوارنٹین سنٹرز قائم ہیں انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے حوالے سے حکومت کو کسی سطح پر بھی کنفیوژن نہیں تھی۔ پاکستان لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ تھر میں تو لوگوں کو بھوک سے بچا نہیں سکے کورونا میں کیسے لوگوں کو یہ بھوک سے بچاتے۔ تمام ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔








