اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران صحت کے اخراجات 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 421.8 ارب روپے ہو گئے جو گزشتہ مالی سال کے دوران 416.5 ارب روپے تھے۔ حکومت نے کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی اور شہریوں کو اس وائرس سے بچاﺅ کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ جمعرات کو وفاقی …
رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران صحت کے اخراجات 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 421.8 ارب روپے ہو گئے،اقتصادی جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران صحت کے اخراجات 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 421.8 ارب روپے ہو گئے جو گزشتہ مالی سال کے دوران 416.5 ارب روپے تھے۔ حکومت نے کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی اور شہریوں کو اس وائرس سے بچاﺅ کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اقتصادی جائزہ 2019-20ءکے مطابق کورونا وائرس کی وبائی بیماری 26 فروری 2020ءکو پاکستان میں پہنچنے کی تصدیق ہو گئی تھی۔ جب ایران سے واپسی کے دوران کراچی پہنچنے پر ایک مریض کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، تب سے اندرون اور بیرون ملک منتقلی سے اس وبائی مرض کا پھیلاﺅ شروع ہوا۔ 5 جون 2020ءتک ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی کل تعداد 89,249 جبکہ تندرست ہونے والے مریضوں کی کل تعداد 31,198 اور انتقال کر جانے والوں کی کل تعداد 1,838 رپورٹ ہوئی۔ سندھ میں سب سے زیادہ 33,536 کیسز، پنجاب میں 33,144 ، خیبر پختونخوا میں 11,890 اور بلوچستان میں 5,582 کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس وباءسے اموات کی شرح تقریباً 2.1 فیصد ہے۔ کورونا وائرس (COVID-19) کے تناظر میں حکومت پاکستان نے ایک اعلیٰ سطح کی قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) تشکیل دی ہے جو اس وبائی مرض کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے ہر روز صورتحال کا جائزہ لیتی ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطوں کو یقینی بنا کر اس وبائی بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ وفاقی حکومت اور صوبوں کے باہمی تعاون کے ساتھ بروقت اقدامات کئے جانے کی وجہ سے اب تک اس وباءکو مزید پھیلنے سے روک رکھا ہے۔ پاکستان کے 2018ءکے قومی غذائیت کے سروے (این این ایس) کے مطابق 40 فیصد بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں، ان کی نشونما غیر کامل ہے اور باقی 20 فیصد کا وزن معمول سے کم ہے۔ قومی غذائیت کے سروے (این این ایس) نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ہماری آبادی کا تقریباً 18 فیصد (38 ملین) خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہے۔ غذائی قلت کے معاشی اخراجات جی ڈی پی کے نقصان کے لحاظ سے بہت زیادہ او رمستقل ہیں جو پاکستان میں ہر سال تین فیصد (7.6 بلین ڈالر) ہیں۔ حکومت ملیریا، تپ دق، ایچ آئی وی/ ایڈز ذیابیطس، کینسر، دل کی بیماریوں جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لئے صحت پر آنے والے اخراجات میں اضافے کی خواہاں ہے۔ مالی سال 2019ءکے دوران وفاق اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے مجموعی صحت کے اخراجات بڑھ کر 421.8 بلین روپے ہو گئے ہیں جو کہ پچھلے سال 416.5 بلین روپے تھے اور پچھلے سال کی شرح نمو 1.3 فیصد رہی اور مالی سال 2019ءکے دوران یہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد رہی۔








