کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھرمیں 10 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکارہوسکتے ہیں، عالمی بینک

اسلام آباد ۔ 12 جون (اے پی پی) عالمی بینک نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے رواں سال بین الاقوامی معیشت کے حجم میں 5 سے لیکر 8 فیصد تک کی کمی متوقع ہے، اسی طرح اس وبا کی وجہ سے دنیا بھرمیں 10 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکارہوسکتے ہیں۔ یہ بات عالمی بینک نے جون میں جاری جائزہ کی بنیاد پرکہی ہے، اس سے …

اسلام آباد ۔ 12 جون (اے پی پی) عالمی بینک نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے رواں سال بین الاقوامی معیشت کے حجم میں 5 سے لیکر 8 فیصد تک کی کمی متوقع ہے، اسی طرح اس وبا کی وجہ سے دنیا بھرمیں 10 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکارہوسکتے ہیں۔ یہ بات عالمی بینک نے جون میں جاری جائزہ کی بنیاد پرکہی ہے، اس سے قبل عالمی بینک نے اپریل میں اس وقت کے اعدادوشمارکی بنیادپرعالمی معیشت کے حوالہ سے جائزہ جاری کیا تھا۔عالمی بینک کے نئے جائزہ میں بیس لائن اورڈاﺅن سائیڈ منظرنامہ کے تناظر میں مستقبل کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔ بیس لائن منظرنامہ کے مطابق اگر وباکی موجودہ صورتحال جاری رہی تو اس سال کے اواخرمیں معاشی بحالی کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے ، بیس لائن کی بنیادپررواں سال عالمی معیشت کے حجم میں کمی کی شرح 5 فیصد تک متوقع ہے ۔ ڈاﺅن سائیڈ منظرنامہ کے تحت اگر وبا کا پھیلاﺅ جاری رہا اوراس کے نتیجہ میں لاک ڈاون اوردیگر پابندیاں برقراررہتی ہیں تو اس کے نتیجہ میں بحالی کا عمل تاخیر کا شکارہوجائے گا، اس صورتحال میں عالمی معیشت کا حجم 8 فیصد تک سکڑسکتا ہے۔عالمی بینک کے نئے جائزہ میں ان دواشاریوں کی بنیادپرغربت کے حوالہ سے بھی پیشنگوئی کی گئی ہے۔ بیس لائن منظرنامہ کے تحت وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں انتہائی غربت میں جانے والے افراد کی تعداد7 کروڑ 10 کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔ ڈاﺅن سائیڈ منظرنامہ کی صورت میں انتہائی غربت میں جانے والے افراد کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوزکرنے کا اندیشہ ہے، عالمی بینک نے 1.90 ڈالریومیہ آمدنی والے افراد کو انتہائی غربت کی کیٹگری میں رکھا ہے۔ جائزہ کے مطابق سال 2021ءمیں عالمی معیشت میں 4 فیصد اضافہ کا امکان ہے تاہم آنے والے سال میں غربت کی شرح میں کمی کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔