اسلام آباد ۔ 12 جون (اے پی پی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے تحت مواصلات ڈویژن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے 32 جاری اور25 نئے منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 118929.608 ملین روپے مختص کئے ہیں جن کے لئے 14100 ملین روپے غیر ملکی امداد اور 104829.608 ملین روپے ملکی فنڈنگ …
آئندہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں مواصلات ڈویژن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 32 جاری اور25 نئے منصوبوں کے لئے 118929.608 ملین روپے مختص
اسلام آباد ۔ 12 جون (اے پی پی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے تحت مواصلات ڈویژن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے 32 جاری اور25 نئے منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 118929.608 ملین روپے مختص کئے ہیں جن کے لئے 14100 ملین روپے غیر ملکی امداد اور 104829.608 ملین روپے ملکی فنڈنگ شامل ہے۔ جمعہ کو جاری پی ایس ڈی پی کے اعدادوشمار کے مطابق این ایچ اے کے علاوہ مواصلات ڈویژن کے لئے 254.753 ملین روپے مختص کئے گئے ہٰیں جبکہ این ایچ اے کے 32جاری منصوبوں کے لئے 88954.855 ملین روپے رکھے گئے ہیںجس میں 10750.000 ملین روپے غیر ملکی امداد اور 78204.855 ملین روپے ملکی فنڈنگ شامل ہو گی۔ این ایچ اے کی 25 نئی اسکیموں کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت بجٹ میں 29720 ملین روپے رکھے گئے ہیں جن کے لئے 3350 ملین روپے غیر ملکی امداد شامل ہو گی جبکہ 26370 ملین روپے مقامی فنڈنگ سے فراہم کئے جائیںگے۔ این ایچ اے کے منصوبوں کے لئے سب سے زیادہ رقم 20000 ملین روپے ایم۔ون برہان۔ ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کے منصوبےکے لئے مختص کی گئی ہے۔ پی ایس ڈی پی کے تحت جگلوٹ۔سکردو روڈ (ایس۔1) 167 کلومیٹر کی بہتری، اپ گریڈیشن اور چوڑا کرنے کے منصوبے کے لئے 9000 ملین روپے کھے گئے ہیں جبکہ لاہور۔ ملتان موٹر وے ( ایم۔3 ) کے لئے7000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انڈس ہائی وے (این۔55) سرائے گمبیلا تا کوہاٹ حصہ کو دو رویہ کرنے کے لئے 5000 ملین روپے اور پنڈی گھیپ۔کوہاٹ روڈ کو دو رویہ کرنے اور اسے اپ گریڈ کرنے کے لئے 4500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی بجٹ میں بسیما تا خضدار 106 کلومیٹر دو رویہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے 4400 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پرانے بنوں روڈ کو دورویہ اور بہتر کرنے کے لئے 4000 ملین روپے اور 2010کے سیلاب اور مون سون کی طوفانی بارشوں سے نیشنل ہائی ویز کو ہونے والے نقصانات کی بحالی و مرمت کے لئے3868.25 ملین روپے رکھے گئے ہیں جس میں 2500 ملین روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔ اسی طرح پی ایس ڈی پی کے تحت حکومت نے 32کلومیٹر پشاور شمالی بائی پاس کے لئے 3500 ملین روپے جبکہ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ ہدیارا نالہ ملتان روڈ کی بہتری اور دو اضافی لین تعمیر کرنے کے لئے 3000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سکھر ملتان موٹر ے کے 392 کلو میٹر حصہ کی تعمیر کے لئے 2500 ملین روپے رکھے گئے ہیں جس میں 2000 ملین روپے غیر ملکی اماد شامل ہے۔ اسی طرح کاریک راداری کے لئے 2500 ملین روپے رکھے گئے جس میں راہداری ترقیاتی سرمایہ کاری کے تحت 1000 ملین روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔ چین۔پاکستان اقتصدی راہداری (سی پیک) کے حصہ حویلیاں تا تھا کوٹ 118 کلومیٹر کی تعمیر کے لئے 2500 ملین روپے رکھے گئے ہیں اس منصوبے کےلئے غیر ملکی امداد 2000 ملین روپے کھی گئی ہے۔ پشاور موڑ۔ نیو اسلام آباد انٹر نیشل ایئر پورٹ میٹرو بس سروس منصوبے کے انفراسٹرکچر و دیگر ملحقہ کاموں کے لئے 1500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ یک مچھ ۔خاران براستہ دوستین، واڑھ، خورماگئی بلیک ٹاپ روڈکی تعمیر کے لئے 1500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ فیصل آباد۔ خانیول ایم۔فور موٹر وے کی تعمیر کے لئے 2500 ملین روپے رکھے گئے ہیں جس میں 1500 ملین روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔ این ایچ اے کی نئی سکیموں میں ژوب ۔ کچلاک روڈ کی عمیر کے لئے 10000 ملین روپے رکھے گئے ہیں جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی راہداری کا حصہ ہے، ایم۔ 8 ہوشاب ۔ آواران 146 کلومیٹر حصہ کی تعمیر کے لئے 4000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ درہ خیبر اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کے لئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 500 ملین روپے غیر ملکی امداد کا حصہ ہو گا۔ اسی طرح 23 کلومیٹر کوئٹہ مغربی بائی پاس کی تعمیر کے لئے 1500 ملین اور لودھراں۔ملتان این۔5 کو کشادہ کرنے اور بہتری کے لئے 1500 ملین بھی رکھے گئے ہیں۔









