ہم نے بھارتی عزائم کو جاننے کے باوجود، دفاعی اخراجات کی مد میں اضافہ نہیں کیا تاکہ لوگوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 13 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے بھارتی عزائم کو جاننے کے باوجود، دفاعی اخراجات کی مد میں اضافہ نہیں کیا تاکہ لوگوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔معیشت کا پہیہ رک جانے کی وجہ ہمارے محصولات میں 800 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ مشکل حالات میں انتہائی مناسب، حوصلہ افزا، اور پرامید بجٹ ہے۔ہفتہ کو وفاقی بجٹ …

اسلام آباد ۔ 13 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے بھارتی عزائم کو جاننے کے باوجود، دفاعی اخراجات کی مد میں اضافہ نہیں کیا تاکہ لوگوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔معیشت کا پہیہ رک جانے کی وجہ ہمارے محصولات میں 800 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ مشکل حالات میں انتہائی مناسب، حوصلہ افزا، اور پرامید بجٹ ہے۔ہفتہ کو وفاقی بجٹ 2020ـ21 کے حوالے سے ویڈیو پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ 2020-21ء کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے،کاش اپوزیشن کا رویہ سنجیدہ ہوتا۔ ہمارا جی ڈی پی آمدن میں جو خسارا ہوا ہے وہ 3000 ارب کا ہے۔ 2020-21ء کا بجٹ غیرمعمولی حالات میں پیش کیا گیا جب کورونا وبا نے دنیاکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ رک جانے کی وجہ ہمارے محصولات میں 800 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔جولائی سے مارچ تک ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا جبکہ مارچ سے جون تک کورونا کی وجہ سے ان میں تیزی کے ساتھ کمی آئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کہ ماضی کی حکومتوں کے لیے ہوئے قرضہ جات پر سود کی ادائیگی میں ہمارے بجٹ کا بہت بڑا حصہ صرف ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یہ قرضے نہیں لیے۔ یہ ماضی کی حکومتوں نے لیے ہیں لیکن ہمیں ان کی ادائیگیاں کرنا ہیں۔اس کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری ترقی پذیر معیشتوں کیلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رعایت مانگیں۔مجھے خوشی ہے کہ جی 20 اور پیرس کلب نے ہمیں کچھ رعایت دی ہے۔ہماری توجہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف مرکوز ہے تاکہ ہمیں مزید رعایت مل سکے اور مزید وسائل دستیاب ہونے پر ہم انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور غربت مٹانے کے لیے بروئے کار لا سکیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2020-21ء کے بجٹ کی خاصیت یہ ہے کہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا عوام پر بے جا بوجھ نہیں ڈالا ،بلکہ ماضی کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے بالواسطہ ٹیکسز، ڈیوٹیز اور ٹیرف کو کم کیا جا ریگولیٹری ڈیوٹیز کو کم کیا۔ہماری کوشش ہے کہ ہم ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنائیں۔ٹیکس نظام کی آٹو میشن سے ٹیکس وصولی میں یقیناً بہتری آئے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ کرپشن میں کمی واقع ہو گی۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ وہ معیشت جو جمود کا شکار تھی اسے پھر سے رواں دواں کیا جائے اس کیلئے گروتھ کا ہونا ضروری ہے۔گروتھ کیلئے ہم نے تین چیزوں پر توجہ دی ہے۔ہم نے ایسے سیکٹرز کو چنا ہے جو روزگار پیدا کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو اس وقت ہماری معیشت کو سہارا دے سکتا ہے زرعی شعبے اور آبی وسائل میں بہتری کیلئے ہم نے اس بجٹ میں ایک خطیر رقم مختص کی ہے۔ٹڈی دل کا جو حملہ ہوا ہے اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے دس ارب کی رقم اس ضمن میں مختص کی گئی ہے زرعی شعبے کیلئے پچاس ارب کی ایک اور رقم مختص کی گئی ہے۔گروتھ کو بڑھانے کیلئے دوسرا سیکٹر، کنسٹرکشن کا ہے جس کیلئے بہت سی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں۔ہماری کوشش ہے کہ ہمارا گروتھ ریٹ منفی سے مثبت ہو جائے کم از کم دو فیصد گروتھ کریں اور آئندہ سالوں میں اسے اس سطح پر لے جائیں جہاں اسے جانا چاہیے۔اسی گروتھ کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی بلکہ اضافہ کیا جائے گا کیونکہ گروتھ میں اضافہ ہو گا تو روزگار ملے گا غربت میں کمی واقع ہو گی۔وشیر خارجہ نے کہا کہ ساتویں نیشنل فنانس ایوارڈ نے وفاقی حکومت کے ہاتھ باندھ دیے تھے کیونکہ بلواستہ، بلاواسطہ محصولات سے جو آمدن ہوتی ہے اس کا 60 فیصد صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے جبکہ وفاق کے پاس 40 فیصد رہ جاتا ہے وفاق نے تمام اخراجات اسی کے اندر رہ کر کرنا ہوتے ہیں لہذا ہم نے حسب سابق سرکاری اخراجات میں کمی کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے ہندوستان کے عزائم کو جاننے کے باوجود، دفاعی اخراجات کی مد میں بھی اضافہ نہیں کیا تاکہ لوگوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اور اس سلسلے میں افواج پاکستان نے معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ بے پناہ تعاون کیا ہے۔ہم نے ان علاقوں اور طبقوں پر توجہ مرکوز کی ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔اس کیلئے ہم نے احساس پروگرام کے تحت پچھلے سال 178 ارب کی رقم کو اس سال 208 ارب تک بڑھا دیا ہے۔اگرچہ صحت اور تعلیم صوبوں کی ذمہ داری بنتے ہیں لیکن ہم نے ان شعبوں میں بھی بہتری لانے کیلئے اس بجٹ میں خطیر رقم مختص کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، پیسے کا ضیاع روکا جائے بے معیشت کو دوبارہ بحال کیا جائے اور بے روزگاری کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے۔ان مشکل حالات میں انتہائی مناسب، حوصلہ افزا، اور پرامید بجٹ دینے پر میں وزیر خزانہ اور ان کی پوری معاشی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔