متنازعہ سرحدی علاقوں سے متعلق چین کا مؤقف اصولی ہے، چین نے حتیٰ الوسع کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے، گفتگو کے ذریعے حل ہو لیکن بھارت نے چین کی بات کو درخورِ اعتناء نہ سمجھتے ہوئے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا، ، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ متنازعہ سرحدی علاقوں سے متعلق چین کا مؤقف اصولی ہے، بھارت چین فوجی تصادم سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے، اگر ہندوستان سمجھتا ہے کہ پاکستان، اس کے جارحانہ رویے سے مرعوب ہو گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ …

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ متنازعہ سرحدی علاقوں سے متعلق چین کا مؤقف اصولی ہے، بھارت چین فوجی تصادم سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے، اگر ہندوستان سمجھتا ہے کہ پاکستان، اس کے جارحانہ رویے سے مرعوب ہو گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ دنوں سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی۔ چین نے حتیٰ الوسع کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے، گفتگو کے ذریعے حل ہو لیکن بھارت نے چین کی بات کو درخورِاعتناء نہ سمجھتے ہوئے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 9 مئی کو ایک چپقلش ہوئی مگر اب یہ خونی تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے، آج جو اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق 20 سے زیادہ بھارتی فوجیوں اور افسران کی اموات ہو چکی ہیں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے،کئی دہائیوں کے بعد خونی تصادم کی یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے، یہ سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت جب بھی ہندتوا سوچ اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے گا تو حالات خراب ہوں گے ، 5 اگست کو بھارت نے جو یکطرفہ اقدام اٹھائے انہیں پاکستان بھی مسترد کر چکا ہے اور چین بھی اس پر معترض ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان، معقولیت کی بجائے جنونیت کی سوچ پر گامزن ہے جو رویہ انہوں نے، اپنے ملک میں اپنی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے ہم خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں ۔افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشیں ساری دنیا کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان سمجھتا ہے کہ پاکستان، اس کے جارحانہ رویے سے مرعوب ہو گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، ہم نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل کی پیشکش کی جسے انہوں نے پس پشت ڈال دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ فروری میں جب ہندوستان نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا۔چین کا موقف اصولی ہے تبت اور لداخ کا 3500 کلومیٹر کا علاقہ بھارت اور چین کا متنازعہ سرحدی علاقہ ہے اور اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کے لیے قابلِ قبول نہ ہو ۔

مزید خبریں