اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیرنے کہا ہے کہ اپوزیشن دور میں لئے گئے قرضے میں سے ہم نے 5 ہزار ارب روپے واپس کئے، پاکستان کے 86 فیصد عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں، بلین ٹری منصوبہ پر تنقید کرنے والے بتائیں ان کے ادوار میں کتنی شجرکاری کی گئی، انگریز کے دور کی فاریسٹ پالیسی ہم نے …
اپوزیشن دور میں لئے گئے قرضے میں سے ہم نے 5 ہزار ارب روپے واپس کئے، پاکستان کے 86 فیصد عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں، زرتاج گل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیرنے کہا ہے کہ اپوزیشن دور میں لئے گئے قرضے میں سے ہم نے 5 ہزار ارب روپے واپس کئے، پاکستان کے 86 فیصد عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں، بلین ٹری منصوبہ پر تنقید کرنے والے بتائیں ان کے ادوار میں کتنی شجرکاری کی گئی، انگریز کے دور کی فاریسٹ پالیسی ہم نے تبدیل کی، انگریز 23 فیصد جنگلات چھوڑ کر گیا اور 2015 ء تک یہ 4 فیصد پر آگیا،کووڈ 19 سے ساری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی اس کے باوجود پاکستان کے نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اپنے دور میں چار سال دھرنوں اور خلائی مخلوق کے پیچھے چھپتی رہی۔ جونہی نیب اپنی کارروائیاں شروع کرتی ہے یہاں شور شرابہ شروع ہو جاتا ہے۔ نالائق اولادیں اپنے اقتدار کو دوام چاہتی ہیں۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف’ سابق وزراء اعظم سمیت کورونا کے تمام مریضوں کو اللہ صحت دے۔ اب ان کی اولادیں وزیراعظم کو دھمکا رہی ہیں کہ وہ ان کی موت کے ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مینار پاکستان کے سامنے پنکھا جھول کر کابینہ کا اجلاس کر رہے تھے وہ کیا لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے بیانات نہیں بدلے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال میں چالیس ہزار ارب پنجاب کا بجٹ تھا وہاں کیا ترقی ہوئی۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے کاروبار میں بہتری ہوئی۔ جب شہباز شریف گئے تو پنجاب مقروض تھا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ پر سیاست چلتی رہے گی۔ دنیا کی تمام معیشت اس سے متاثر ہوئی۔ یہ کووڈ 19 کا بجٹ ہے’ ساری دنیا اس سے لڑ رہی ہے۔ امریکہ جیسے سپر پاور کی جی ڈی پی منفی ہوگئی ہے۔ یو کے کی اکانومی کا سائز 20 فیصد کم ہوگیا ہے۔ ان کے لئے آئندہ بجٹ وبال جان بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں اپنے وزیراعظم کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ غریب اور مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بجٹ ٹیکس فری پیش کیا۔ احساس پروگرام غریب’ نادار’ بیوائوں’ مزدوروں کا پروگرام ہے۔ 180 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے تک پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں رجسٹریشن کے لئے کسی وڈیرے کے گھر نہیں جانا پڑتا۔ یہ شفاف پروگرام ہے۔ بجٹ میں 69 ارب روپے پانی کے لئے رکھے گئے۔ بھاشا ‘ داسو اور مہمند جیسے ڈیم بنیں گے۔ اگر ہم نے یہ ڈیم نہ بنائے تو پانی دستیاب نہیں ہوگا۔ ان ڈیمز سے ہماری زمینیں سیراب ہوں گی۔ روزگار’ بجلی پیدا ہوگی۔ یہ وزیراعظم کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں مواصلات کے لئے 118 ارب روپے رکھے گئے۔مواصلات کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں اربوں روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں۔ ڈی جی خان میں امراض قلب کا ہسپتال بنایا جارہا ہے۔ صوبائی بجلی میں اس کے لئے چار ارب روپے سے زائد رکھے گئے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے شکر گزار ہیں۔ زرتاج گل نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کے لئے بجٹ میں 68ارب روپے رکھے گئے۔ ڈیرہ غازی خان سے صدر اور گورنر رہے لیکن وہاں بجلی کا کوئی بڑا منصوبہ ہیں دیا گیا۔ اب میگا پراجیکٹ مل رہے ہیں۔ پانچ سال بعد ڈیرہ غازی خان ترقیاتی کاموں میں بڑے شہروں کے برابر ہوگا۔ زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان کی فارسٹ پالیسی انگریزوں کی ہے۔ 1995ء سے 2015ء تک جنگلات کا رقبہ چار فیصد رہ گیا۔ انگریز 33 فیصد چھوڑ کر گئے تھے۔ کے پی کے میں تین لاکھ 50 ہزار ہیکٹر پر جنگلات لگائے گئے۔ ورلڈ اکنامک فورم میں بھی اس پر بات ہوئی۔ اپوزیشن بتائے اس نے اپنے دور میں کتنے درخت لگائے۔ ہم نے ان کے دور کے پانچ ہزار ارب کے قرضے واپس کئے۔ ہم نے نئے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ ایک اپوزیشن رہنما کووڈ 19 کو وفاق کی سازش قرار دے رہے ہیں۔ ہماری پالیسی عوام کی مایوسی دور کرنا ہے۔ ہمارا بہادر لیڈر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ 86 فیصد عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ہر موضوع پر وہ کھل کر سامنے آکر بات کرتے ہیں۔ وفاق بڑا بھائی ہے۔ صوبہ سندھ میں لاکھوں من گندم چوری کرلی گئی۔








