اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اسباب کے جائزہ کیلئے نیشنل پریولینس سٹڈی کے نام سے ایک ملک گیر تحقیقی مطالعہ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول …
معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کا این سی او سی میں عالمی ادارہ صحتِ کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا گونا راتھنا ماہی پالا اور وائس چانسلر ہیلتھ یونیورسٹی کے ہمراہ بریفنگ کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اسباب کے جائزہ کیلئے نیشنل پریولینس سٹڈی کے نام سے ایک ملک گیر تحقیقی مطالعہ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی) میں پاکستان میں عالمی ادارہ صحتِ کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا گونا راتھنا ماہی پالا اور ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ہمراہ بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا گونا راتھنا ماہی پالا اور ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے نیشنل پریولینس یونٹی سٹڈی کے آغاز کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کئے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے بریفنگ کے دوران کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں روزانہ کی بنیاد پر کوویڈ19 کے حوالہ سے اعداد و شمار اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر موصولہ اطلاعات کی روشنی میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اسبابِ جاننے کیلئے ملک بھر کے شہروں اور دیہات میں ایک سروے شروع کیا جائے تاکہ ان اسباب کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جا سکےـ معاون خصوصی نے کہا کہ نیشنل پریولینس یا یونٹی سٹڈی کے ذریعے عالمی ادارہ صحتِ کے اشتراک سے ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں سے سیمپل اکٹھے کئے جائیں گے جن کے نتائج جولائی کے آخر تک سامنے آ جائیں گےـ اس تحقیقی سٹڈی سے قومی سطح پر کوویڈ۔19 کے پھیلائو کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی میں بھی مدد ملے گی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا پہلا ملک ہے جس کا اس ریسرچ سٹڈی کیلئے انتخاب کیا جا رہا ہے، اس سے قبل دنیا کے 25 ممالک میں اس تحقیقی مطالعہ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس لحاظ سے پاکستان 26 واں ملک ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی نے اس تحقیقی مطالعہ کی تجویز پیش کی تھی۔ وزارت قومی صحت، ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور آغا خان یونیورسٹی اس ریسرچ کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سٹڈی سے معلوم ہو سکے گا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے کیا اسباب اور رحجان ہیں۔ بریفنگ کے دوران ڈاکٹر پالیتھا گونا راتھنا ماہی پالا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے پر مسرور ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس کا اس ریسرچ سٹڈی کیلئے انتخاب کیا گیا ہے۔








