کوئٹہ۔ 19 جون ( اے پی پی )وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے ملاقات کی ۔ملاقات میں کورونا وائرس کے معاشی و اقتصادی شعبوں پر مرتب اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کورونا وائرس کی روک تھام اور تدارک کے لیے بلوچستان حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ زمینی حقائق …
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے معاون خصوصی برائے سیاسی امورڈاکٹر شہباز گل کی ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 19 جون ( اے پی پی )وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے ملاقات کی ۔ملاقات میں کورونا وائرس کے معاشی و اقتصادی شعبوں پر مرتب اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کورونا وائرس کی روک تھام اور تدارک کے لیے بلوچستان حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ زمینی حقائق جانے بغیر تفتان میں بلوچستان حکومت کے اقدامات کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنانا درست عمل نہیں تھا۔ ڈاکٹر شہباز گل وزیراعظم کی ہدایت پر بلوچستان کا دورہ کر ر ہے ہیں دورے کا مقصد لوگوں کو حوصلہ دینا اور وفاقی حکومت کے تعاون کی یقین دہانی کرانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نہ صرف انسانی جا نوں بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ آغاز میں عوام کو کورونا وائرس کے نقصان کے متعلق یقین دلانا مشکل تھا تاہم اب ان میں احتیاطی تدابیر کا شعور آرہا ہے کووڈ-19 نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور کورنا وائرس سے قوم منظم ہورہی ہے اور قوم میں صحت اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے شعور اجاگر ہو ا ہے۔ ملاقات میں اتفاق رائے پاکستان میں فوڈسکیورٹی کی صورتحال اطمینان بخش اور اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کی وجہ سے کورونا وائرس کے معاشی اثرات بہت زیادہ نقصان دہ نہیںکورونا وائرس کے رویہ کے حوالے سے ابھی تک دنیا بھر میں صرف اندازے ہی لگائے جارہے ہیںحکومت بلوچستان نے کورونا وائرس سے روزگار اور کاروبار پر مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے انہوں نے کہا کہ۔صوبے میں اخوت کے اشتراک سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لیے قرض حسنہ کے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔آئندہ سال کے بجٹ میں معاشی معاونت کی فراہمی کے مزید پروگرام شامل کی گئی ہیں جن سے نوجوان اپنا کاروبار شروع کر سکیں گے۔ انٹر پنیورشپ کے تحت اپنے لوگوں کو معاشی طور پر انکے پیروں پر کھڑا کرنا ہے باہر سے آنے والے ہنر افراد کو بھی معانت فراہم کر کے اپنے ہنر کو بروئے کار لانے کے مواقع دینگے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ہر ضلع میں معاشی سرگرمیوں کے مواقع موجود ہیں زراعت ماہی گیری اور لائیو سٹاک سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کرنے کے روشن امکانات ہیں۔








