وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی وفاقی وزیر برائے اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 19 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق صدارتی ریفرنس کو چیلنج کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے۔ یہ حساس معاملہ ہے یہ کسی کی فتح اور شکست نہیں ہے حکومت کا اس فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے ان …

اسلام آباد ۔ 19 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق صدارتی ریفرنس کو چیلنج کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے۔ یہ حساس معاملہ ہے یہ کسی کی فتح اور شکست نہیں ہے حکومت کا اس فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارجمعہ کو یہاں وفاقی وزیر برائے اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور میں اعلی عدلیہ کے ججوں اور عدلیہ کی آزادی کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یقین ہے کہ آئین میں عدلیہ ایگزیکٹو اور مقننہ کا احتیارات کا تعین کردیا گیا ہے ۔ شہزاد اکبرنے کہا کہ سپریم کورٹ کا بہت اہم فیصلہ آیا ہے ۔آرٹیکل 9 کے تحت تین طریقوں سے کسی جج سے متعلق سوال اٹھا یا جا سکتا ہے ۔ پہلا طریقہ، کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات دے سکتا ہے۔ دوسرا طریقہ، حکومت کی طرف سے صدرمملکت ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ تیسرا طریقہ ،سپریم جوڈیشل کونسل از خود نوٹس لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور ان کے بچوں کو نوٹسز بھیجے جائیں گے۔ جج صاحب کی اہلیہ اور بچوں کے لندن میں تین فلیٹس اور منی ٹریل کی تفصیل جمع کرانا ہو گی ۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین ایف بی آر کو 75 دن میں کمشنر انکم ٹیکس رپورٹ دیں گے ۔ معاون خصوصی نے کہاکہ چیئرمین ایف بی آر پابند ہوں گے کہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجیں،سپریم جوڈیشل کونسل چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ پر کارروائی کرے گی۔ شہزاد اکبرنے کہاکہ حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے،یہ بہت احسن فیصلہ ہے ۔ ججز کے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنے چاہیئیں ۔ معزز جج صاحباب ہمارے آئینی حقوق کے پاسدار ہیں اورہمارے لیے محترم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا ایک حصہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مختصر فیصلے میں ایسی کوئی بات نہیں ۔ اس پریس کانفرنس کا مقصد حکومت کا موقف واضح کرنا تھا جس پر تفصیلی حکم نامہ آنے پر عمل کیا جائےگا ۔ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومتی موقف سے متعلق آگاہ کر رہے ہیں۔

مزید خبریں