مظفر آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے آھنی عزم، اپنی قوم سے محبت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا تھا،بھارت ایک محدود جنگ لڑنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ یہ بات آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ”چین ، بھارت سٹینڈ آف اور …
صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا ”چین ، بھارت سٹینڈ آف اور اس کے پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے مضمرات “ کے عنوان سے ورچوئل کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
مظفر آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے آھنی عزم، اپنی قوم سے محبت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا تھا،بھارت ایک محدود جنگ لڑنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ یہ بات آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ”چین ، بھارت سٹینڈ آف اور اس کے پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے مضمرات “ کے عنوان پر ایک ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس جس کا اہتمام کارپوریٹ پاکستان گروپ نے کیا تھا، سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے آٹھ سال تک خدمات سرانجام دیں، نے کہا کہ بھارت نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے آھنی عزم، اپنی قوم سے محبت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ صدر سردار مسعود خان نے امریکی تھینک ٹینکس کی رائے سے مکمل اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بھارت اور چین کچھ شعبوں میں ہم پلہ ہوں لیکن کئی دوسرے شعبوں میں چین بھارت سے بہت آگے ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق چین کے پاس تین سو بیس ایٹمی وار ہیڈز ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے پاس صرف ایک سو پچاس ایٹمی وار ہیڈ ہیں، چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی تعداد سولہ لاکھ ہے جبکہ بھارت کے پاس بارہ لاکھ کے لگ بھگ آرمی ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ چین کے دفاعی اخراجات دو سو اکسٹھ ارب ڈالر ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے دفاعی اخراجات اکہتر ارب ڈالر ہیں اور اس طرح امریکہ کے بعد چین اپنے دفاع پر خرچ کرنے والا دوسرا اور بھارت تیسرا ملک ہے، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنگیں مشینیں نہیں لڑتیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں اور ان جنگوں میں کامیابی کا انحصار کچھ دوسرے عوامل کے علاوہ فوجوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، سپاہیوں کا حوصلہ، نظم و ضبط اور جس مقصد کے لئے جنگ لڑی جا رہی ہے اس کا جائز اور منصفانہ ہونا اور لڑنے والے ملکوں کے اندرونی حالات اور ان کی معیشت کی صورتحال پر بھی ہو تا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہاکہ بھارت ایک محدود جنگ لڑنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے کیونکہ وہ 1962کی چین کے ساتھ جنگ کی غلطی کبھی نہیں دوہرائے گا کیونکہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس اس جنگ میں بھارت کی شکست پر نہرو کو آج تک مطعون کرتے چلے آرہے تھے اور مودی کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ تاریخ میں ایک اور نہرو بن جائے۔ اسی طرح بھارت کی معیشت تیزی سے گر رہی ہے اور وہ ایک لمبی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارت کے حکمران ٹولے کی گیدڑ بھبکیوں سے قطع نظر بھارت کی فوج کی اپنی ہم پلہ اور مقابلے کی فوج کے ساتھ لڑنے کی کوئی تاریخ نہیں ہے بھارتی فوج کی پہچان صرف یہ ہے کہ وہ نہتے اور غیر مسلح لوگوں کو قتل کرتی ہے اور انہیں زخمی یا معذور کرتی ہے جس طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ بھارت نے اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر میں نو لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے اور خود بھارت کے دعوے کے مطابق مقبوضہ ریاست میں لڑنے والے مجاہدین کی تعداد صرف دو سو تیس ہے یہ ہے بھارت کی طاقت اور صلاحیت جس پر وہ ناز کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کہ مصداق بھارت کو یہ امید ہے کہ امریکہ اس کو بحران سے نکال لے گا اور اس کی دوسری امید یہ ہے کہ وہ چین کے خلاف معاشی و تجارتی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کرے گا، بھارتی حکومت کی طرف سے چین کے خلاف تجارتی پابندیاں لگانے کا مطلب اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے سوا کچھ نہیں ، اس طرح چین کے ساتھ بھارت کے لڑنے کے پیچھے کوئی اعلیٰ اخلاقی مقصد بھی کار فرما نہیں کیونکہ بھارت نے اس وقت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تصادم کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کی وجہ سے پورے خطے میں ایک افرا تفری کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ لائن آف ایکچوئیل کنٹرول کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی فوج کو کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج گلوان وادی اور پنگ گانگ جھیل کے ساتھ ساتھ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مستقل چھاﺅنیاں تعمیر کر رہی تھی تاکہ وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) منصوبے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو ناکام بنا کر چین کے مقابلے میں خطے کا ایک بڑا ملک بننے کا خواب پورا کر سکے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ایک ایسے دریا میں مچھلیاں پکڑنا کوئی دانشمندی نہیں جس میں سیلاب آیا ہو لیکن پاکستان اور کشمیری جو خطے میں جنگ تو نہیں چاہتے لیکن ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سیاسی، عسکری اور سفارتی محاذ پر چین کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا منصوبہ کامیاب ہو سکے۔ صدر ریاست نے کہاکہ لداخ کی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر ایک بار پھر اجاگر ہوا ہے اور بھارت کے اس موقف کو زک پہنچی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جو بات چیت ہوئی اس میں چین نے واضح طور پر بھارت کو بتایا ہے کہ لداخ اور جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے پر چین کو سخت اعتراض ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی ، آر ایس ایس حکومت کے کشمیر کے حوالے سے پانچ اگست 2019اور اکتیس اکتوبر 2019کے اقدامات کے بعد چین کی سفارتی اور عسکری حکمت عملی پاکستان اور کشمیریوں کے مفاد میں ہے۔ چین نے پانچ اگست کے بعد تین بار اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے میں پاکستان کی مدد کی۔ صدر سردار مسعود خان نے امریکہ سے اپیل کی کہ وہ خاموش تماشائی بن کر جنوبی ایشیاءکو جنگ کی تباہ کاریوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھنے کے بجائے آگے بڑھ کر غیر جانبداری سے اس صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں لانے کے لئے پاکستان اور کشمیریوں کی مدد کرے۔ صدر سردار مسعود خان نے عالمی سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ بھارت کے خلاف پابندیاں لگانے کی مہم شروع کر کے کشمیر میں نسل کشی روکے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک کروڑ پاکستانی اور کشمیری بھی بھارت کی سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے بھارت میں ہندوتوا، پرتشدد انتہاءپسندی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم رکوانے کے لئے اس کی حمایت حاصل کریں۔ کانفرنس سے سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید، میجر جنرل (ر) اطہر عباس، ڈاکٹر ہما بقائی، ڈانیل مارکی، پروفیسر عادل نجم اور سابق رکن یورپین پارلیمنٹ سجاد کریم نے بھی خطاب کیا۔








