وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کو خط

اسلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے غیر قانونی اقدام پرگہری تشویش ہے، بھارت کا 5 اگست 2019ءکا اقدام غیر قانونی ہے، یو این انسانی حقوق کا ادارہ پہلے ہی اس کو غیر قانونی …

اسلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے غیر قانونی اقدام پرگہری تشویش ہے، بھارت کا 5 اگست 2019ءکا اقدام غیر قانونی ہے، یو این انسانی حقوق کا ادارہ پہلے ہی اس کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے، اقوام متحدہ کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے کے عمل کو رکوائے، سوپور میں 3 سالہ بچے کی حالیہ تصویر بھارتی بربریت کی عکاس ہے، بھارت نے 25 ہزار غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دے کر جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ ترجمان وزارت انسانی حقوق کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بھارت کا 5 اگست 2019ءکا اقدام غیر قانونی ہے، یو این انسانی حقوق کا ادارہ پہلے ہی اس کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے لہٰذا میں آپ کے دفتر سے اپیل کرتی ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کے تناسب کو زبردستی منتقلی کو رکوایا جائے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ او ایچ سی ایچ آر نے کشمیر کے بارے میں دو رپورٹیں پہلے ہی جاری کر چکا ہے اور پہلی رپورٹ جون 2018ءمیں اور دوسری رپورٹ جولائی 2019ءمیں جاری ہوئی۔ دونوں رپورٹوں میں آپ کے دفتر نے بھارتی مقبوضہ جموں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ طاقت کے زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں بربریت کی مثالیں قائم کر رہا ہے اور حال ہی میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے ایک تصویر جاری کی گئی ہے جس میں ایک تین سالہ بچہ سوپور میں اپنے نانا کے خون سے ڈوبے ہوئے جسم پر بیٹھا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ بدقسمتی سے اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کی عدم مداخلت سے ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے کی طاقت حاصل کر لی ہے جس کی وجہ سے ان سنگین خلاف ورزیوں کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً 25 ہزار بھارتی شہریوں کے ڈومیسائل جاری کئے ہیں جبکہ آرٹیکل 49 واضح طور بتاتا ہے کہ قابض اقتدار اپنی شہری آبادی کو ڈی پورٹ یا منتقل نہیں کرے گا۔ خط میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت سے دوچار کرنے کی بار بار کوششیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔اس وقت کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے والے آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری سے بچنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ہائی کمشنر سے انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں فوری مداخلت کی جائے، اگر ہم ابھی مل کر کام نہیں کرتے ہیں تو ، ہم خطے میں مزید عدم استحکام اور خونریزی کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جس سے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف پاک بھارت سرحد اور خطہ میں بڑے پیمانے پر لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو امنگوں کی ترجمانی اور انکے حقوق کےلئے آواز بلند کرنا ترک نہیں کرسکتے۔