اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) کورونا وائرس ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمن نے کہا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو کوویڈ 19 سے بچاﺅ کے لئے کلینکل ٹرائلز کی منظوری سے متعلق ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ایک بین الاقوامی کمپنی نے ویکسین کے کلینکل ٹرائلز کے لئے درخواست ڈریپ کو دی تھی۔ اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر عطاءالرحمن نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ …
کورونا وائرس ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمن کی ”اے پی پی“سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) کورونا وائرس ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمن نے کہا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو کوویڈ 19 سے بچاﺅ کے لئے کلینکل ٹرائلز کی منظوری سے متعلق ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ایک بین الاقوامی کمپنی نے ویکسین کے کلینکل ٹرائلز کے لئے درخواست ڈریپ کو دی تھی۔ اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر عطاءالرحمن نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ اس ویکسین کے کلینکل ٹرائلز بین الاقوامی سطح پر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ویکسین کی تیاری کے لئے متعدد بین الاقوامی کمپنیوں سے رابطے میں تھے جس کے بعد ایک بڑی بین الاقوامی کمپنی نے پاکستان میں ویکسین کے کلینکل ٹرائلز کرنے پر اتفاق کیا۔ ڈاکٹر عطاءالرحمن جو کورونا وائرس پر وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی ہیں، نے امید ظاہر کی کہ ڈریپ دو ہفتوں میں اس ویکسین کے کلینکل ٹرائلز منظوری دیدے گی۔ انہوں نے کہا کہ منظوری کے بعد کلینکل ٹرائلز ہماری نگرانی میں کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ویکسین کے کلینکل ٹرائلز مکمل ہونے میں تین سے چار ماہ لگتے ہیں، امید ہے کہ ڈریپ دو ہفتوں میں منظوری دے گا تو کلینکل ٹرائلز اگلے چار ماہ میں مکمل ہو جائیں گے اور اگر ان ٹرائلز کے نتائج مثبت آتے ہیں تو پھر ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کی جا سکتی ہے اور اس طرح یہ ویکسین دسمبر سے مارچ کے مہینوں میں پاکستان میں دستیاب ہو سکتیہے۔ حکومتی سطح پر کووڈ 19 کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے کچھ دیگر اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت جانچ کی سہولیات کو بڑھانے کے لئے سخت اقدامات بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی ادویات کے کلینکل ٹرائلز کے لئے ”پروٹیکٹ“ کے نام سے ایک اہم پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہسپتالوں، تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں سمیت ملک کے بہت سے اداروں کی شمولیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں ہمارے پاس نہ صرف روزانہ 400 ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود تھی جبکہ اب روزانہ 30ہزار ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈریپ نے تین اقسام کے 11 وینٹی لیٹرز کی منظوری شارٹ لسٹ کئے ہیں۔ ڈریپ کی منظوری کے بعد ان کی تیاری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہہا کہ ہم بہت جلد اپنے ملک میں وینٹی لیٹرز تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک کے بننے والے ماسک، سوٹس، گلوز، سینی ٹائزر اور ٹیسٹنگ کٹس بنانے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس سے ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے۔








