فریڈم گیٹ پراسپرٹی (ایف جی پی)اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں قائم نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (این سی اے آئی)نے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت، تحقیق، جدید ہنرمندی کے فروغ اور اقتصادی مواقع کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا جس سے مجموعی معاشی ترقی اور خصوصاً نوجوانوں کےلئے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے میں …
فریڈم گیٹ پراسپرٹی اور نسٹ میں این سی اے آئی کا ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت، تحقیق، جدید ہنرمندی کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):فریڈم گیٹ پراسپرٹی (ایف جی پی)اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں قائم نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (این سی اے آئی)نے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت، تحقیق، جدید ہنرمندی کے فروغ اور اقتصادی مواقع کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا جس سے مجموعی معاشی ترقی اور خصوصاً نوجوانوں کےلئے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد مل سکے۔
منگل کو جاری بیان کے مطابق اس امر کا اعادہ نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس/ نسٹ میں ادارے کے چیئرمین اور سینٹرل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز اور ایف جی پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد انور اور سٹریٹجک پالیسی ایڈوائزرشفقت عزیز پرمشتمل ایف جی پی وفد کے درمیان ہونے والی خصوصی ملاقات کے دوران کیا گیا۔اس موقع پر ایف جی پی کے سی ای اومحمد انور نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے معیشتوں، صنعتوں اور لیبر مارکیٹوں کو نئی شکل دے رہی ہے جس سے انٹرپرینیورشپ، جدت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو کام کی بدلتی ہوئی دنیا کے لئے ڈیجیٹل مہارتوں کو تقویت دے کر جدت کی حوصلہ افزائی کرکے اور تحقیقی اداروں، صنعت، تعلیمی اور ترقیاتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی جی باخبر مکالمے اور باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے جو تکنیکی ترقی کو جامع اقتصادی مواقع اور پائیدار ترقی میں بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز نے پاکستان کی تکنیکی اور معاشی مسابقت کو مضبوط بنانے میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور جدت کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اہم شعبوں میں مقامی تحقیق، انسانی سرمایہ اور عملی اے آئی ایپلی کیشنز میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نوجوان ریسرچرز، جدت کاروں اور کاروباری افراد کے لیے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں حصہ ڈالنے کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔ انہوں نے تحقیقی اداروں، صنعت، حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی سے جڑی جدت قومی ترقی کی ترجیحات کو مؤثر طریقے سے ہم آہنگ ہے۔
اہم عصری چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئےشفقت عزیز نے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ترقیاتی چیلنجز بشمول ماحولیات اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے وابستہ معاشی اور سماجی تبدیلی کے بارے میں عوامی فہم اور پالیسی گفتگو کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے ایف جی پی کی کاوشوں کی تفصیل پیش کی۔ملاقات کے دوران دونوں ا داروں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا جس میں پالیسی ڈائیلاگ، تحقیقی تعاون، جدید ہنرمندی کافروغ، عوامی آگاہی اور نوجوانوں کےلئےانٹرپرینیورشپ اور اے آئی سے چلنے والے معاشی مواقع کو فروغ دینے جیسےاقدامات شامل ہیں۔








