خواتین کے خلاف امتیازی پالیسیوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
خواتین کے خلاف امتیازی پالیسیاں،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):خواتین کے خلاف امتیازی پالیسیوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان میں خواتین کے خلاف ناانصافی اورپابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے طالبان رجیم میں افغان خواتین کے خلاف غیرمنصفانہ پالیسیوں پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے خلا ف امتیازی پالیسیاں ان کی زندگی کے ہرشعبے کو متاثرکررہی ہیں۔طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں افغان عورتوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،افغان خواتین پرپابندیاں افغانستان کی معاشی ترقی، استحکام اور عالمی انضمام میں بڑی رکاوٹ ہیں، افغان خواتین کےاقوام متحدہ کے لئے کام کرنے پرعائد پابندی فوری طورپرختم کی جائے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کی تعلیم اورروزگارپرعائد سخت پابندیوں نے انسانی حقوق کی صورتحال کوتشویشناک حد تک سنگین بنا دیا ہے،طالبان رجیم کے زیراثرافغانستان میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال بدستوردنیا کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔








