وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو خلائی اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اپنا کر اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات سے نمٹنے کی ضرورت ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر پی) نے پہلے ہی ملک میں دل کے مریضوں کیلئے اسٹینٹ تیار کرنے کے لئے نیشنل …

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو خلائی اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اپنا کر اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات سے نمٹنے کی ضرورت ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر پی) نے پہلے ہی ملک میں دل کے مریضوں کیلئے اسٹینٹ تیار کرنے کے لئے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کو لائسنس جاری کیا ہے اور اگست کے وسط میں اس کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہو گا۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ عرب امارات کو مریخ پر پہلے مشن کے آغاز کے تاریخی کارنامے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ متحدہ عرب امارات نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے تحت اس نے خلائی ریسرچ پروگرام میں ایک سنگ میل حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مریخ مشن کے کامیاب آغاز پر متحدہ عرب امارات کے نوجوان سائنسدانوں اور وزیر سائنس کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نہ صرف متحدہ عرب امارات کے لئے بلکہ تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے لئے ایک بہترین لمحہ ہے۔ چوہدری فواد حسین کہا کہ عرب ممالک کے لئے خلا کے میدان میں عالمی علم کو آگے بڑھانا ایک اہم کامیابی ہے اور ہمیں متحدہ عرب امارات پر فخر ہے جو مریخ مشن پر کام کرنے والی اماراتی خواتین کو یکساں مواقع فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خلا، عجائب گھروں، صحت سے متعلق اور زراعت کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈریپ میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے اور اب تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے اسٹینٹ تیار کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ پاکستان ایکس رے مشینوں کی مقامی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس مقامی مینوفیکچرنگ طبی سازوسامان برآمد کرنے کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کی کوشش کر رہی ہے۔ چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ وبائی مرض سے قبل ہسپتالوں نے وینٹیلیٹروں میں کم سرمایہ کاری کی تھی کیونکہ وہ مہنگے ہوتے ہیں اور یہ آلات بنیادی طور پر کچھ بڑے ہسپتالوں میں دستیاب ہوتے تھے لیکن اب پاکستان اپنی مقامی وینٹیلیٹروں کی تیاری کرنے کے قابل ہے اور جلد ہی انہیں برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔

مزید خبریں