اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے کہا ہے کہ تاجروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروبار میں آسانی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، عالمی وباءکورونا وائرس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری شخصیات کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے، چمن بارڈر سے ملحقہ علاقوں کی آباد ی اس سے براہ راست متاثر ہوئی ہے، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو …
معاون خصوصی ارباب شہزاد کا چمن بارڈر کی بندش اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو درپیش مشکلات کے سلسلے میں اجلاس میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے کہا ہے کہ تاجروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروبار میں آسانی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، عالمی وباءکورونا وائرس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری شخصیات کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے، چمن بارڈر سے ملحقہ علاقوں کی آباد ی اس سے براہ راست متاثر ہوئی ہے، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی سے افغانستان اور پاکستان کے مابین تجارت میں اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں چمن بارڈر کی بندش اور چمن باڈر سے ملحقہ علاقوں کے عوام کو درپیش مشکلات کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے شرکاءنے چمن بارڈر اور اس کے ملحقہ علاقوں کے تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے صوبائی حکام سے رابطہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں کہا کہ سرحد کی دونوں جانب ایک ہی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اجلاس میں مقامی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے صوبائی اور ضلعی حکام سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، محسن داوڑ، علی وزیر، محمد صادق، نفیسہ عنایت اﷲ خٹک اور وزارت تجارت، داخلہ، صحت اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ پاک افغان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ٹاسک فورس برائے ٹریکنگ ایند سکیننگ آف کنٹینر ز نے کنٹینرز کی اسکیننگ سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سکیننگ اور ٹریکنگ کا عمل پاک۔افغان تجارت میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ ٹاسک فورس نے افغانستان بارڈر پر برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی سہولیات کے لئے کنٹینرز کی سکیننگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان محمد صادق خان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں باہمی تجارت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے تاجروں کی سہولت کے لئے سکیننگ کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اسکیننگ کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے کنٹینرز میں موجود سامان خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ٹاسک فورس کا اجلاس ممبر قومی اسمبلی محمد یعقوب شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں کسٹم اور ڈیمرج سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی وجہ سے پاک۔ افغان تجارت متاثر ہوئی ہے اس لئے کنٹینرز پر عائد ڈیمرج چارجز پر چھوٹ دینے کی سفارش کی جائے۔ ٹاسک فورس کے شرکاءنے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام کی خوشحالی کے لئے دوطرفہ تجارت ضروری ہے۔ ٹاسک فورس نے کووڈ۔19 وبائی مرض کی ہنگامی صورتحال کے دوران برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو خصوصی رعایت دینے کی سفارش کی۔ ٹاسک فورس نے ڈیمرج چارجز کے معاملات کو حل کرنے کے لئے صوبائی حکام اور دیگر گورنمنٹ سٹیک ہولڈز کو آن بورڈ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹاسک فورس کے شرکاءنے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے فعال کردار پر یقین رکھتے ہیں اور تاجروں اور کاروباری طبقہ خصوصاً افغانستان کے ساتھ تجارت کی راہ میں درپیش مسائل کو حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔








