وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے یقین دلایا کہ حکومت میڈیا سمیت ملک کے اداروں کو موجودہ چیلنجوں سے نکالنے کے لئے اصلاحات کے جامع ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہے، حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی روک تھام نہیں رکھنا چاہتی لیکن پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل …

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے یقین دلایا کہ حکومت میڈیا سمیت ملک کے اداروں کو موجودہ چیلنجوں سے نکالنے کے لئے اصلاحات کے جامع ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہے، حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی روک تھام نہیں رکھنا چاہتی لیکن پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل سمیت ہر قسم کے میڈیا کے لئے ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن نیوز (پی ٹی وی) اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں اداروں کو جامع حکمت عملی کے تحت مالی بحران سے نکال کر جدید خطوط پر اصلاحات لانے چاہئیں۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ جب میں بطور وزیر اطلاعات ذمہ داریاں نبھا رہا تھا تو میں نے ”اے پی پی“ کو ڈیجیٹل نیوز ایجنسی بنانے کی تجویز دی تھی، اسی طرح پی ٹی وی کے پاس بھی مزید تفریحی چینلز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے تحت حکومت ملک کو ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں آگے لے جانے پر توجہ دے رہی ہے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ایک مضبوط، متحرک اور ذمہ دار میڈیا ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور عوام کو اچھی طرح سے باخبر رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسی میڈیا عدالت ہونی چاہیے جہاں میڈیا سے متعلق امور کی سماعت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد کہانیوں کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لئے میڈیا کے ساتھ روابط کو مزید تقویت دی جانی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اپوزیشن کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو پی ٹی آئی سے بہت سی توقعات ہیں، لوگوں کو امید ہے کہ تحریک انصاف ملک میں تبدیلی لائے گی اور یہ ہمارے لئے ایک حقیقی چیلنج ہے۔ چاند دیکھنے کے معاملے سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت نے چاند دیکھنے کے لئے ایک نظام تشکیل دیا ہے اور اپنے منصوبے کو منظوری کے لئے وزارت مذہبی امور کو بھیجا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت نے یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی بھیج دیا گیا ہے، اب یہ ان تک ہے کہ وہ اس نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔