وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاوسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس

اسلام آباد ۔ 31 جولائی (اے پی پی) نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاوسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے تعمیراتی شعبہ سے وابستہ ڈویلپرز، بلڈرز اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کیلئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں جو کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل کیلئے کئے گئے اقدامات اور تعمیراتی شعبوں میں سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کر …

اسلام آباد ۔ 31 جولائی (اے پی پی) نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاوسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے تعمیراتی شعبہ سے وابستہ ڈویلپرز، بلڈرز اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کیلئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں جو کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل کیلئے کئے گئے اقدامات اور تعمیراتی شعبوں میں سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو 13 بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی جانب سے آئندہ 4 سے 5 ماہ میں ایک لاکھ رہائشی یونٹس کیلئے منصوبے اور 13 کھرب روپے تک کی اقتصادی سرگرمیاں شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ان منصوبوں میں ایک لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاوسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس میں کرائی۔ اجلاس میں تمام صوبائی چیف سیکرٹریز سمیت کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے نمایاں بلڈرز اور ڈویلپرز اور بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ”آباد“ بلڈرز اور ڈویلپرز کی تنظیموں کی قومی سطح پر نمائندگی کرتی ہے اور نجی شعبہ کی تعمیراتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آباد کے نمائندوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ نہ صرف این او سی اور اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے بلکہ نجی بینکوں کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جس کا کریڈٹ بلاشبہ موجودہ حکومت اور سٹیٹ بینک کو جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبہ کی ضرورت میں تعاون کرنے کیلئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی میں گورنر سٹیٹ بینک کے اہم کردار کی تعریف کی۔ اجلاس میں موجود بلڈرز اور ڈویلپرز نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ موجودہ نظام سے ان کے مسائل نمٹانے میں مدد ملے گی اور زیر التواءدرخواستوں کی منظوری سے اربوں روپے کے منصوبے شروع کئے جا سکیں گے۔ اجلاس میں موجود 13 بلڈرز نے بھی یقین دہانی کرائی جبکہ آباد کے بلڈرز اور ڈویلپرز بھی اپنے وعدوں پر عملدرآمد جلد شروع کریں گے۔ وزیراعظم نے بلڈرز کمیونٹی کی یقین دہانی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعمیراتی شعبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں زیادہ ترقی ہوتی ہے جبکہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی جانب سے زیادہ مواقع ملنے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو گا اور اس سے سرمائے کے حصول اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا اور خسارے کا بوجھ کم ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ، چھوٹی اور بڑی صنعتوں کا فروغ موجود حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت ان شعبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، نئے منصوبوں کو یوٹیلٹیز کی فراہمی سے متعلق امور پر وزیراعظم نے یقین دلایا کہ درخواستوں کو تیزی سے نمٹایا جائے گا۔ وزیراعظم نے بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آن لائن درخواستیں، ٹریکنگ اور مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ ون ونڈو سہولت مرکز سے تعمیراتی شعبہ کا کاروبار کرنے میں مزید آسانی پیدا ہو گی۔