اسلام آباد ۔ 14 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، چین ، ترکی اور سعودی عرب سمیت دیگر دوست …
مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کا کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، چین ، ترکی اور سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کی ہے، مسلح افواج اور پاکستانی قوم نے دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، افغانستان میں امن کے لئے امن معاہدہ اہم قدم ہے، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، سی پیک سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے، کورونا وبا کے باوجود پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں، حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں اور قوم کے تعاون سے کورونا وبا کے خلاف کامیابی ملی، گزشتہ دو سال کے دوران حکومت اور قوم نے کرپشن کے خلاف علم بلند کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 74 ویں یوم جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو 74 ویں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہو ں۔ 23 مارچ 1940ءکو مسلمانوں نے قرار داد مقاصد پاس کی۔ وہ ایک خواب تھا جس کی تکمیل 14 اگست 1947ءکو ہوئی۔ پاکستان طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا جس کے بعد تکمیل پاکستان کے لئے اس ملک کو حضرت محمد خاتم النبین ﷺ کی سنت، علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کے مطابق بنانے کی جدوجہد شروع ہوئی۔ یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو وجود میںآنے کے بعد متعدد چیلنجز درپیش رہے۔ مسلح افواج اور قوم نے دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کا مقابلہ کیا کسی اور ملک نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔ کسی نے ان کے خلاف بات نہیں کی۔ اب بھی27 لاکھ افغان تارکین وطن پاکستان میں موجود ہیں جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک 100 افراد کو بھی پناہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان اتحاد، تنظیم اور ایمان پر عمل کیا۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاکستان پر حملے کے جواب میں پاکستان نے امن کا پیغام دیا۔ پاکستانی حکومت، قوم او میڈیا نے بھی امن کا پیغام دیا جبکہ بھارتی حکومت، قوم اور میڈیا نے جنگ کو ہوا دی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران موجودہ حکومت اور پوری قوم نے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی۔ بدعنوانی کے خلاف یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وبا سے متاثر ہوئی۔ پوری دنیا میں لاک ڈاو¿ن لگایا گیا لیکن وزیر اعظم عمران خان نے قوم کی فکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اتنا سخت لاک ڈا?ن نہیں کر سکتے جس سے لوگ بھوک اور افلاس کا شکار ہوں۔ یہ وزیر اعظم کا اپنے ملک کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تھا۔ انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں مشکل راستے کا انتخاب کیا جس پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔








