موجودہ حکومت نے اپنی ترقیاتی حکمت عملی میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کو ترجیح قرار دیتے ہوئے برسوں سے زیرالتوا تین بڑے ڈیموں کے راستے میں رکاوٹیں دور کیں،پاور ڈویژن

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنی ترقیاتی حکمت عملی میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کو ترجیح قرار دیتے ہوئے برسوں سے زیرالتوا تین بڑے ڈیموں کے راستے میں رکاوٹیں دور کرتے ہوئے عملی کام کا آغاز کیا ہے، دیامربھاشا ڈیم، داسو پاور پراجیکٹ اور مہمند ڈیم منصوبے ملک میں بجلی کی …

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنی ترقیاتی حکمت عملی میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کو ترجیح قرار دیتے ہوئے برسوں سے زیرالتوا تین بڑے ڈیموں کے راستے میں رکاوٹیں دور کرتے ہوئے عملی کام کا آغاز کیا ہے، دیامربھاشا ڈیم، داسو پاور پراجیکٹ اور مہمند ڈیم منصوبے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے اور صعنتی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسرآنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں سے مجموعی طورپر 9 ہزار 750 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی، وزیراعظم عمران خان کے معاشی ترقی کے ویژن کو عملی تعبیر دینے کے لئے توانائی کے شعبہ کے یہ بڑے منصوبے انتہائی اہم ثابت ہوںگے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنے دو سال میں توانائی کے شعبہ میں اصلاحات متعارف کرانے، واجبات کی وصولیوں کو بہتر بنانے، بجلی چوری کی روک تھام، لائن لاسز میں کمی، قابل تجدید توانائی پالیسی متعارف کرانے اور ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لئے مؤثر اقدامات کئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی کی گئی جبکہ واپڈا نے اس منصوبے کی تعمیر کیلئے ایک ایسا قابل عمل فنانشل پلان ترتیب دیا جس میں قومی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ بلاآخر اب یہ منصوبہ اپنی تعمیر کے مرحلے میںداخل ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال مہمندڈیم پر تعمیراتی کام کے آغاز کے بعد تقریباً ایک سال میں دیامر بھاشا ڈیم دوسرا کثیر المقاصد ڈیم ہے جس کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر ، فوڈاور انرجی سکیورٹی کی ضروریات کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جارہا ہے۔ منصوبہ 2028-29ء میں مکمل ہوگا۔دیامربھاشا ڈیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں جن میں زرعی مقاصد کیلئے پانی کا ذخیرہ ،سیلاب سے بچاؤ اور کم لاگت پن بجلی کی پیداوار شامل ہیں۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت 12لاکھ 30ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہوگی۔ منصوبہ کی بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے او ر یہ نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً18ارب یونٹ بجلی مہیا کرے گا۔ اگر بجلی کی یہی مقدار تھرمل ذرائع سے پیدا کی جائے تو قومی خزانے کو ہر سا ل تقریباً 270 ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔ یاد رہے کہ تھرمل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی اوسط لاگت تقریباً 15روپے فی یونٹ ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرسے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا سمیت دیگرموجودہ پن بجلی گھروں کی سالانہ پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان پن بجلی گھروں سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ 1974 ء میں اپنی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میںمزید35سال کا اضافہ ہوجائے گا۔دیا مر بھاشاڈیم پراجیکٹ مقامی لوگوں کیلئے بھی ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔ پراجیکٹ ایریامیں سماجی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت 78ارب 50کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران اور تکمیل کے بعد مقامی لوگوں کیلئے روزگار کیلئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر کام کے آغاز کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اور انہوںنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبہ کی بہتری کے اس بڑے منصوبے کو مکمل کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔ دیامر بھاشا ڈیم کے مرکزی حصے کی تعمیر کیلئے 442 ارب روپے کا ٹھیکہ پاور چائنا اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ دیامربھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم منصوبہ ہے۔ موجودہ حکومت نے ایک سال میں مہمند، دیا مر بھاشا جیسے بڑے ڈیمز پرکام شروع کیا،اس معاہدے سے پاک چین دوستانہ تعلقات کا نیا باب شروع ہوگیا ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے 4320 میگاواٹ،پہلے مرحلے میں 2160 میگاواٹ حاصل کی جائے گی جو تقریباً 5 سال کے اندر مکمل ہوگا، جس کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹس بجلی فراہم کر پائے گا، جب کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ سالانہ مزید 9 ارب یونٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت کا کل تخمینہ 4 ارب 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس سے 4 سے 5 سال کے دوران 2160 میگا واٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی۔ پہلے مرحلے میں ڈیم کی تعمیر سمیت پاور ہائوس کے 6 یونٹس کی تعمیر کی جائے گی۔4 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ یہ 21 ارب سے زائد یونٹ بجلی پیدا کر سکے گا جب کہ اس کی پیداواری صلاحیت تربیلا ڈیم کی موجودہ صلاحیت سے 7 سے 8 ارب یونٹس زیادہ ہوگی۔منصوبہ دوسرے مرحلے میں بھی 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوگا اور مرکزی ڈیم تعمیر ہوجانے اور پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ زیادہ وقت نہیں لے گا، جب کہ دوسرے مرحلے میں صرف پاور ہاؤس کی تعمیر کی جائے گی، جس کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ واپڈا چار ہزار 320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دریائے سندھ پر صوبہ خیبرپختونخواکے ضلع کوہستان میں داسو ٹاؤن سے بالائی جانب تعمیر کر رہا ہے۔ یہ ترقیاتی منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کیلئے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی اقتصادیات مستحکم ہوگی اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس منصوبے سے 3 سینٹ فی یونٹ بجلی حاصل کی جائیگی جبکہ ابھی پاکستان میں اوسط بجلی کی لاگت 8 سینٹ ہے، اس منصوبے سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہوںگی اور پاکستان کا تیل کا درآمدی بل بھی کم ہو گا۔ پشاور شہر سے 48 کلومیٹر کا فاصلے پر دریائے سوات پر کنکریٹ کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے مہمند ڈیم کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اور منصوبے کے تحت اس سے آٹھ سو20 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ اس ڈیم کی تکمیل پانچ سال سے سات سال میں متوقع ہے۔مہمند ایجنسی میں دریائے سوات پر میگا پروجیکٹ مہمند ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ایک اعشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ ہوگی اور 820 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔پشاور، چار سدہ اور نوشہرہ کے علاقوں میں سیلاب کی روک تھام کے ساتھ ساتھ کے پی کے صوبائی دارالحکومت کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا، دن کے ساتھ رات کے اوقات میں بھی سائٹ پر کام جاری ہے، واپڈا مقامی لوگوں کے لیے پراجیکٹ ایریا میں تعلیم ، صحت اور دیگر سہولیات پر چار ارب سے زائد رقم خرچ کرے گا۔مہمند ڈیم منصوبہ ساخت کے اعتبار سے پانچواں بڑا سی ایف آر ڈی ڈیم ہے۔مہمند ڈیم کی تعمیر سے یومیہ 8 سو میگا واٹ اور سالانہ 28 سو 62 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور اس پر 3 ارب ڈالر لاگت آئے گی جب کہ اس کی تعمیر سال 2024 میں مکمل ہوگی۔مہند ڈیم میں 12 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس آبی ذخیرے سے 16 ہزار 737 ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکے گا۔اس کے ساتھ مذکورہ ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) ثاقب نثار نے دیا مر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈ قائم کیا تھا جس میں شہریوں سے عطیات جمع کرانے کی اپیل کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس فنڈ کا نام سپریم کورٹ آف پاکستان و وزیرا عظم دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ اس فنڈ میں لوگوں نے دل کھول کر عطیات جمع کرائے تھے۔ ماہرین توانائی کے مطابق پاکستان کو آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس 2066 کیوبک کلومیٹر پر گلیشیئرز موجود ہیں جن سے استفادہ کر کے توانائی کے وسائل کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے دیامیر، داسو اور مہمند ڈیم منصوبوں کے راستے میں حائل مشکلات کو خوش اسلوبی سے حل کیا ہے۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے رواںسال کے پی ایس ڈی پی میں وافر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی کی صورتحال میں بہتری سے صنعتوں کا پہیہ بلاتعطل چلانے اور معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے معاشی ترقی کے ویژن کو عملی تعبیر دینے کے لئے توانائی کے شعبہ کے یہ بڑے منصوبے انتہائی اہم ثابت ہوںگے۔