صدر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کی پریس کانفرنس

کراچی۔17 اگست(اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ کراچی کی ترقی اور بہتری کے لئے ہم نے پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر کڑوا گھونٹ پیا ہے تاکہ کراچی کے عوام کو کچھ ریلیف مل جائے، 12سال سے صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی کے ساتھ پیپلز پارٹی سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، ہماری سوچ ہے کہ …

کراچی۔17 اگست(اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ کراچی کی ترقی اور بہتری کے لئے ہم نے پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر کڑوا گھونٹ پیا ہے تاکہ کراچی کے عوام کو کچھ ریلیف مل جائے، 12سال سے صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی کے ساتھ پیپلز پارٹی سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، ہماری سوچ ہے کہ جمہوری طریقے سے عوام کے مسائل حل ہوں،اگر آج کراچی شہر کا سروے کروائیں تو شہر کے لوگ فوری طور پر انتظامی تبدیلی کے خواہاں ہیں، ہماری پارٹی کی سینئر قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے بہتر مستقبل کے لئے ساتھ بیٹھا جائے کیونکہ پیپلز پارٹی کے پاس ایسے لوگ یا وہ وژن یا مشن نہیں جس کے ذریعے صوبے کے حلات کو بہتر کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار خرم شیر زمان نے پیر کو انصاف ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اراکین سندھ اسمبلی ڈاکٹر عمران علی شاہ، ارسلان تاج، ڈاکٹر سیما ضیائ، پی ٹی آئی رہنما فراز لاکھانی، عمران صدیقی اور دیگر موجود تھے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جب یہ کمیٹی کا م شروع کرے تو سب سے پہلے کراچی کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے، ہم شہر کے اندر ٹینکر مافیا کے راج کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں صفائی ستھرائی کا نظام بین الاقوامی سطح کا ہونا چاہئے، ہم سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ کراچی میں بہترین ٹرانسپورٹ کا نظام ہونا چاہئے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کب تک رہیں گی؟ کب تک ہماری عوام بسوں کی چھت پر سفر کریں گے؟ یہ سندھ حکومت کی ٹرانسپورٹ منسٹری کی ذمہ داری ہے کہ شہر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر کرے، اس وقت کراچی شہر کو 6سے 7ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ اورنج لائن، یلو لائن، ریڈ لائن تمام سندھ حکومت کے کاکوئی ایک منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ہم ان تمام مسائل پر خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ 2015میں سندھ اسمبلی میں وزیرا علیٰ نے طویل تقریر کی تھی کہ ہم کراچی کو سیف سٹی پراجیکٹ دیں گے، شہر بھر میں کیمرے لگائے جائیں گے، ہمارا سوال ہے وزیر اعلیٰ سے کہ آپ کے سیف سٹی پراجیکٹ کا کیا ہوا؟ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو فوری مکمل کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری طور پر ٹھیک کیا جائے، جو لوٹ مار اور کرپشن ایس بی سی اے میں ہے اسے ختم کیا جانا چاہئے، شہر بھر میں غیر قانونی عمارتیں بننے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں نالوں کے اوپر غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں ، اس معاملے میں ایس بی سی اے کے ملوث افسران کو سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو کراچی شہر پورے ملک کو چلاتا ہے اس کے لئے صوبائی حکومت نے کوئی ماسٹر پلان نہیں بنایا، اگر آج کراچی کے بلدیاتی نظام کی تباہی کا کوئی ذمہ دار ہے تو وہ صرف پیپلز پارٹی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو پی ٹی آئی نے آنے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے بل جمع کروایا ہے اسے منظور کیا جائے، صوبے میں ایسا نظام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا جس میں عوام کو پینے کا صاف پانی ،ٹرانسپورٹ، صفائی ستھرا جیسی بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں ۔شہر کراچی نے12سالوں میں کوئی ترقی نہیں دیکھی لیکن سمجھ سے بالا تر ہے کہ وفاق سے ملنے والا پیسہ جاتا کہاں ہے۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ ہم شہر کراچی کی عوام کا درد رکھتے ہیں ، کراچی نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہمیں اپنے کراچی کو سنوارنا ہے ۔ ہمارے دلوں میں صوبہ سندھ دھڑکتا ہے، کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ رہے گا ۔ ہم صرف کراچی ہی نہیں پورے سندھ کے حالات ٹھیک کریں گے۔ جس طرح دیگر صوبے وزیر اعظم عمران خان کے ہیں اسی طرح صوبہ سندھ بھی عمران خان کا ہے۔