تحریک انصاف کی حکومت نے 2 سال کے دوران بجلی کے شعبہ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کرا ئیں ، اصلاحات کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کی روک تھام، واجبات کی وصولی میں اضافہ، نئے پن بجلی منصوبوں کے آغاز، ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری اور عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے ٹھوس اور جامع اقدامات کئے ، رپورٹ

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2 سال کے دوران بجلی کے شعبہ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کی روک تھام، واجبات کی وصولی میں اضافہ، نئے پن بجلی منصوبوں کے آغاز، ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری اور عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے ٹھوس اور جامع اقدامات کئے ہیں جس سے ملک میں توانائی کے …

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2 سال کے دوران بجلی کے شعبہ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کی روک تھام، واجبات کی وصولی میں اضافہ، نئے پن بجلی منصوبوں کے آغاز، ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری اور عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے ٹھوس اور جامع اقدامات کئے ہیں جس سے ملک میں توانائی کے شعبہ میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور صنعتی، اقتصادی، زرعی اور گھریلو شعبہ کیلئے بجلی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، نئے پن بجلی منصوبوں سے توانائی کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ منگل کو حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے سلسلہ میں جاری رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ملک میں توانائی کے شعبہ کو سسٹم کی رکاوٹوں، تیزی سے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے، بجلی چوری، ٹیرف کے بوجھ، پالیسی فیصلوں کی کمی ، کرپشن اور دیگر مسائل کی وجہ سے مختلف چیلنجوں کا سامنا تھا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہوا تاہم موجودہ حکومت نے عوام کو 2030ء تک سستی، قابل بھروسہ اور پائیدار ملکی وسائل سے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور جنریشن کیلئے کوششیں شروع کی گئیں تاکہ 2025ء تک قابل تجدید توانائی سے 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد بجلی پیدا کی جا سکے۔ اس مقصد کیلئے لاسز میں کمی اور بجلی چوری کی روک تھام اور نادہندگان سے واجبات کی وصولی کیلئے باقاعدہ وژن مرتب کرکے اس پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) 13 ہزار 747 میگاواٹ کی بجلی کے پیداوار کے 25 جاری منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ 1124 میگاواٹ کے کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 700.7 میگاواٹ کے آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کے آغاز کیلئے معاہدے ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ چین،پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع کیا جانے والے کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، ملک اور آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی آئی پی پی کی طرف سے 2.4 ارب ڈالر کی سب سے بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں 1.35 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہو گی اور 2027ء تک قومی گرڈ میں اس سے سالانہ تقریباً 3265 گیگا واٹ سستی صاف بجلی شامل ہو گی۔ متبادل توانائی کی ترقی کا بورڈ بھی 150 میگاواٹ کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے تین منصوبوں کی کمرشل آپریشن ڈیٹ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ 58 میگاواٹ کے بیگاس کے دو منصوبے بھی بہت اہم ہیں جبکہ 610 میگاواٹ کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 12 منصوبوں کے مالیاتی معاملات طے پا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر 2018ء سے ملک بھر میں وزیراعظم کی ہدایات پر بجلی چوری کے خلاف ایک بھرپور اور بلاامتیاز مہم جاری ہے اور 27 جولائی 2020ء تک اس سلسلہ میں 70256 ایف آئی آرز درج کی گئیں، 113447 افراد کو گرفتار کیا گیا اور بجلی چوری مہم کے دوران 3 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ روپے سے زائد کی وصولی ہوئی ہے۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو 8 ارب روپے کے پرانے واجبات کی وصولی کا بھی ہدف دیا گیا اور اس سلسلہ میں اکتوبر 2018ء سے جون 2019ء تک نمایاں وصولی ہوئی ہے۔ سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے باعث رواں سال سسٹم میں بجلی کی فراہمی کی استعداد 26 ہزار میگاواٹ تک بڑھ گئی ہے جس کے نتیجہ میں رمضان المبارک اور موسم گرما کے دوران بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے، ان کوششوں کے نتیجہ میں صنعتی صارفین بھی مسلسل بجلی حاصل کر رہے ہیں، ترسیلی نظام اب تک 23 ہزار 83 میگاواٹ بجلی کامیابی کے ساتھ فراہم کر چکا ہے، صارفین کی شکایات کے ازالہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی یقینی بنایا گیا ہے اور اس سلسلہ میں موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، ٹیلی فون کال اور ایس ایم ایس کے ذریعے شکایات کے اندراج کی سہولت دی گئی ہے۔ 13 جولائی 2020ء تک 2 لاکھ 74 ہزار 914 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 2 لاکھ 66 ہزار 735 شکایات کو دور کر دیا گیا ہے۔ لائن لاسز میں 1.4 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ نومبر 2019ء سے فروری 2020ء تک پہلی مرتبہ ڈومیسٹک، کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے فلائٹ ٹیرف کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کی ہدایات پر رہائشی علاقوں کے اوپر سے بجلی کی تاروں کو ہٹانے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلہ میں 30 جون 2020ء تک ملک بھر میں 37 ہزار 857 مقامات میں سے 19 ہزار 701 مقامات سے بجلی کی تاریں ہٹا دی گئی ہیں۔ بجلی کمپنیوں کے ملازمین کی حفاظت کیلئے بھی ایک جامع پورٹل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ان ملازمین کو محفوظ ماحول میں کام کرنے کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا گیا ہے۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں ملازمین کو مستقل کرنے کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے اور ایک باقاعدہ طریقہ کار اس کیلئے مرتب کیا گیا ہے، اب تک تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس حوالہ سے عملی اقدامات کر چکی ہیں اور طریقہ کار کے مطابق 8 ہزار 390 ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے۔ مزید ایک ہزار ملازمین کی بھرتی کی بھی اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔ لیسکو اور آئیسکو کے علاقوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کی جا رہی ہے۔ بجلی چوری اور کنڈا سسٹم کی روک تھام کیلئے پیسکو اور سیپکو کے علاقوں میں اے بی سی کیبلز نصب کی جا رہی ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل نے قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دیدی ہے جس سے ملکی وسائل سے سستی بجلی پیدا کی جائے گی۔ صارفین کی شکایات کے فوری ازالہ کیلئے سب ڈویژن کی سطح پر ہرہفتے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 2021-22ء تک این ٹی ڈی سی کے زیر انتظام500 کے وی کے 6 نئے گرڈ سٹیشنزقائم کئے جائیں گے اور تقریباً 2919 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ 220 کے وی کے 14 نئے گرڈ سٹیشنز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس عرصہ کے دوران تقریباً 1813 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بھی ان کے ساتھ بچھائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ مٹیاری اور لاہور میں 660 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ ساتھ کاسا۔1000 منصوبہ کیلئے 500 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن بھی بچھائی جائے گی۔ این ٹی ڈی سی سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہے۔ 7 ارب 42 کروڑ روپے لاگت سے زائد سے پنجگور گرڈ سٹیشن سے ناگ گرڈ سٹیشن کے ذریعے مکران میں بجلی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک ارب 3 کروڑ روپے کی لاگت سے خیبرپختونخوا میں حطار خصوصی اقتصادی زون، ایک ارب 82 کروڑ 58 لاکھ روپے کی لاگت سے رشکئی اقتصادی زون اور 3 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے دھابیجی اقتصادی زون کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس عرصہ کے دوران ٹرانسمیشن کے شعبہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کیلئے بھی اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے سزائوں کو سخت بنایا گیا ہے۔ بجلی کے شعبہ میں ہونے والی پیشرفت اور ہر قسم کی شکایات کے ازالہ کیلئے پاور ڈویژن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی سطح پر باقاعدہ کنٹرول روم اور کمپلینٹ سیل باقاعدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے صارفین کو ہر قسم کی پیشرفت سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں