اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزراءنے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، برا وقت گزر گیا خوشحالی کا دور شروع ہو گیا ہے، احتساب، شفافیت ، میرٹ، خود انحصاری، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور توانائی اور معیشت کے شعبوں کی ترقی حکومت کا مرکز اور محور ا ہے، ففتھ جنریشن وارکا ہدف …
وفاقی وزراسینیٹر شبلی فراز، مراد سعید، فواد چوہدری، شیریں مزاری، فہمیدہ مرزا، معاونین خصوصی ندیم بابر اور شہزاد قاسم کا حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزراءنے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، برا وقت گزر گیا خوشحالی کا دور شروع ہو گیا ہے، احتساب، شفافیت ، میرٹ، خود انحصاری، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور توانائی اور معیشت کے شعبوں کی ترقی حکومت کا مرکز اور محور ا ہے، ففتھ جنریشن وارکا ہدف ملک میں افراتفری اور ناامیدی پیدا کرنا ہے، اپوزیشن عوام میں مایوسی پھیلانا چاہتی ہے، عوام ہمارے ساتھ ہیں، تمام سازشوں کو مل کر ناکام بنائیں گے، حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کویقینی بنایا جائے گا۔ بدھ کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کے ہمراہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت دو سال مکمل ہونے پر اپنی تمام وزارتوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جس کا مقصد اپنے جمہوری فرض کو ادا کرنا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ففتھ جنریشن وار کا ہدف ملک میں افراتفری اور ناامیدی پیدا کرنا ہوتا ہے اور اپوزیشن عوام میں مایوسی اور افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہے، عوام ہمارے ساتھ ہیں، تمام سازشوں کو مل کر ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں گے اور مافیاز کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ہے، مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو غریب کیا اور ترقی کی راہ پر نہیں ڈالا، وسائل کا درست استعمال نہیں کیا گیا اور بیدری کے ساتھ ملک کو لوٹا گیا، ہماری تمام تر کوشش اس بگاڑ کو ٹھیک کرنے کی ہے جس کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہمارا آج گذشتہ کل سے بہتر اور آنے والا کل آج سے بہتر ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد ملک میں میرٹ، انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے تھی اور کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایسی ٹیم کو رکھیں جو کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کے ٹیرف کا کوئی میکنزم تیار نہیں کیا اور مہنگی بجلی کمپنیوں سے خرید کر سستی فروخت کی جاتی رہی اور گردشی قرضے بڑھتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے اس بارے سوچا ہوتا اور بہتری کی ہوتی تو آج اس طرح کی دگرگوں صورتحال نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام شاہانہ زندگی گزار رہے ہوتے تو شاید ہم اقتدار میں نہ آتے۔ انہوں نے کہا کہ گندم مافیا ہو یا چینی مافیا اپنی قیادت کے عزم کے ساتھ ان مافیاز کا مقابلہ کریں گے۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق احتساب، شفافیت، میرٹ اور خود انحصاری کیلئے کوشاں ہیں، وزارت مواصلات میں شفافیت کیلئے ای ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ای بلنگ، ای بڈنگ اور ای ٹینڈرنگ30 ستمبر سے شروع کر رہے ہیں اس سے ہم ریونیو کو مانیٹر کرکے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو ہم نے اداروں میں سادگی مہم شروع کی۔ وزارت مواصلات میں بھی ہم نے سادگی مہم شروع کی جس سے وزارت مواصلات میں 750ملین روپے کی بچت کی گئی۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہم نے خود انحصاری کیلئے محاصل میں اضافے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت مواصلات میں آڈٹ کراکے احتساب کے عمل میں ہم نے12 ارب 56 کروڑ روپے ریکور کئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ریونیو53 سے103 ارب روپے بڑھی ہے۔ اسی طرح ہمارے دور میں شاہراہوں کے منصوبوں پر 48.2 فیصد زیادہ کام ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ روزگار کے مواقعوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سیالکوٹ۔راولپنڈی،کراچی۔چمن۔کوئٹہ سمیت آٹھ منصوبوں پر کام ہورہا ہے ، سیالکوٹ پنڈی اور جہلم پر 46 حلقوں سے موٹروے گزرے گی۔ مراد سعید نے کہا کہ گزشتہ دور میں جس طرح پاکستان پوسٹل سروسز کو عوام نے چھوڑ دیا تھا تو ہم نے وزارت پوسٹل سروسز میں بھی انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، ہم نے پوسٹل سروسز میںٹریک ٹریس سروس متعارف کرایا،یو ایم ایس اور بیرون ملک میں ای ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا، سامان لوگوں کے گھروں کی دہلیز تک پہنچانا شروع کی، اسی طرح ای کامرس کا آغاز کیا گیا اور15چھوٹے برانڈز کے ساتھ معاہدے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان پوسٹ کی آمدنی11.4سے بڑھ کر14ارب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ڈاک میں متعدد نئے منصوبے شروع کیے گئے ہیں،موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130پر رسپانس ٹائم کم کرکے 2منٹ پر لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق اداروں کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابط ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد مشترکہ مفادات کونسل بہت اہم فورم ہے وزارت بین الصوبائی رابط سی سی آئی کو سیکرٹریٹ فراہم کرتی ہے ،سیاحت کے فروغ کے لیے صوبوں کی مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام نئے منصوبوں میں کھیلوں کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کے لیے سپورٹس کو لازمی کیا جا رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ جیلوں میں قید خواتین سمیت دیگر افراد کو جیل کے اندر کھیل کی سہولت فراہم کی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دینی مدارس میں وفاقی تعلیم نے سپورٹس کی سہولت فراہم کی ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ سپورٹس بورڈ کو تبدیل کرنا چاہتی ہوں اس وقت دنیا سپورٹس کے حوالے سے تبدیل ہو کر رہ گئی ہے بلکہ سپورٹس کو صنعت میں تبدیل کیا جا رہا ہے کھیلوں کے ذریعے سفارتکاری ہی دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے اصلاحات کی ہیں اس سے قبل سپورٹس بورڈ کے 31 ممبران تھے اب اسے ریویو کرکے 11 ممبران کا بورڈ بنا دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سپورٹس یونیورسٹی کے لیے فنڈ رکھا ہے جس میں آن لائن کوچز کی کلاسیں ہوں اس سے قبل ہم بین الاقوامی گیم کھیلنے کے لیے جاتے تھے باہر کی دنیا میں اچھا ماحول ہوتا تھا کھیلوں کے لیے اب پابندیوں کا سامنا ہے اب پہلی مرتبہ اس حوالے سے اینٹی ٹائپنگ ووٹ بنے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان سپورٹس کے ریوینیو میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اتھلیٹس کو بہتر ماحول اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سابقہ ادوار میں وزارت انسانی حقوق کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی جبکہ موجودہ حکومت میں وزیراعظم عمران خان کا جہاں فوکس دیگر ملکی مسائل کو حل کرنے پر تھا وہاں انہوں نے انسانی حقوق کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت نے موجودہ دور حکومت میں تین چیزوں پر سب سے زیادہ فوکس کیا جن میں انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور جہاں قوانین میں سقم موجود ہو وہاں پر نئی قانون سازی اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ انسانی حقوق کا مضمون اب ہماری فارن پالیسی کا بھی حصہ بن چکا ہے اور ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بھی بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قانون میں ملک کے شہریوں کو جو تحفظ حاصل ہے اس پر عملدرآمد یقینی ہونا چاہئے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت نے ”زینب الرٹ بل“، ”قانون معاونت انصاف اتھارٹی ایکٹ 2020ئ“، ”بچوں کے گھریلو کام پر پابندی“، ”دیت عرش اور دامن کے قوانین میں ترامیم“، ”آئی سی ٹی تحفظ بچگانہ ایکٹ“ اور ”نظام انصاف نابالغاں ایکٹ 2018ئ“ منظور کرائے گئے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ متعدد بلز اپوزیشن کی سیاست کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں جن میں کرسچن اینڈ میرج طلاق بل، ڈومیسٹک وائلنس بل، سینئر سٹیزن بل، کوپرل پنشمنٹ بل سمیت دیگر بلز قائمہ کمیٹیوں میں اٹکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت جرنلسٹس پروڈکشن بل پر وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر انسانی حقوق سے متعلقہ 17 ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری وزارت کی ہیلپ لائن پر دو سال کے دوران 5 لاکھ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 11 ہزار کو وزارت کی طرف سے قانونی معاونت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت بچوں سے پیش آنے والے بدسلوکی کے واقعات کے سدباب کیلئے بھی کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہم شروع کی اور میں نے خود اسلام آباد کے سکولوں میں مختلف پروگرام میں شرکت کی اور بچوں کو بدسلوکی کے واقعات سے بچنے کے بارے میں آگاہی فراہم کی اس کے علاوہ اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر بھی اشتہارات چلائے گئے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت نے خواجہ سراﺅں کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کیں۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال میں خواجہ سراﺅں کیلئے الگ وارڈ قائم کئے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کیلئے کنونشن میں شرکت کیلئے رسائی بھی فراہم کی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت کی طرف سے ڈیجیٹل فلم فیسٹیول 4 اگست سے جاری ہے جو 25 اگست تک جاری رہے گا جس میں نہ صرف سماجی مسائل بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی فلم ”فریاد“ دکھائی گئی جس کو وزارت کی وبی سائٹس سے لاکھوں افراد نے آن لائن دیکھا۔ اس کے علاوہ ہماری وزارت نے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ ملکر خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پروگرام پر بھی کام کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ خواتین قیدیوں کے حوالے سے رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جو آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی جائے گی۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا کہ بد عنوان عناصر کا بلا امتیاز احتساب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک تھا جو سائنس و ٹیکنالوجی پر جی ڈی پی کا 0.62فیصد خرچ کرتا تھاماضی کی حکومتوں میں یہ 0.26فیصد کی سطح تک گر گیا اور پاکستان واحد ملک تھا جس نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا بجٹ آدھا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے بیسک سائنس سے اپلائیڈ سائنس کی طرف لے گئے۔ہماری کوششں سے تعلیمی سیکٹر میں بڑی کامیابی ملی اور پاکستان واشنگٹن معاہدہ کا حصہ بنا، جس سے اب پاکستانی انجینئرز کی ڈگری پوری دنیا میں تسلیم کیا جائیگی۔زرعی شعبے کا زکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 500جدید فارم تشکیل دینے کا منصوبہ ہے،ان فارمز کو ڈرونز،بیچ سمیت دیگر ضروری سہولتیں دی جائینگی ہمارا مقصد غیر روایتی فصلوں کی کاشت سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے بھر پور کام کیا ہے اور ہم نے دو ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوڈ 19 کے بعد ہم نے طبی سامان کی ملکی سطح پر تیاری کا آغاز کر دیا اور آج اللہ کے فضل و کرم سے ہر ماہ ہم 250وینٹی لیٹر ملکی سطح پر تیار کر رہے ہیں جبکہ ہم اس صلاحیت کو 700 ماہانہ تک بڑھائیں گے۔اس کے علاوہ الیکڑو میگنیٹک انڈسٹری کیلئے سیالکوٹ میں خصوصی اقتصادی زون بنانے کا ہدف بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان رواں سال ڈائیلاسسز میں استعمال ہونے والے حساس ترین مشینری کی تیاری کا بھی آغاز کردیا۔اس کے علاوہ ہم نے ایک سال میں 2 ارب ڈالر مالیت کی سرجیکل مصنوعات برآمد کرنیکا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے غیر ملکی زرمبادلہ بچانے کیلئے ملکی سطح پر مختلف کیمیکلز کی تیاری کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں کرپشن کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر عظم عمران خان احتساب کو یقینی بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔ وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آغاز میں مالیات اورتوانائی کے چیلنجز درپیش تھے۔پچھے 20، 30 سال میں ملک کا انرجی مکس سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تبدیل ہو گیا تھا اور 70 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے بنائی جا رہی تھی ۔ ہم متبادل توانائی کے ذرائع پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ توانائی کے مقامی وسائل کو بروئے کا رلا رہے ہیں۔ متبادل توانائی کے ذرائع سے عوام کو سستی بجلی فراہم ہو گی اور 2030ءتک قابل تجدید توانائی ، پن بجلی ، تھر کول ، نیوکلیئر پراجیکٹس اور دیگر ملکی وسائل سے 70 سے 75 فیصد بجلی بنائیں گے۔ قابل تجدید توانائی پالیسی کی مشترکہ مفادات کونسل نے اتفاق رائے سے منظوری دے دی ہے ، اس سے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی ہو گی۔ شمسی توانائی کا ٹیرف 13 سینٹ سے کم ہو کر 3.75 سینٹ پر آگیا ہے۔ اس سے بھی عوام کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سولر پینل اور ونڈ پلیٹس جیسے بنیادی آلات کی ہائی ٹیک انڈسٹری ملک میں لگائی جائے گی اور یہ آلات ہم وسط ایشیاءاور افریقہ کو بھی برآمد کریں گے۔ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ عمر ایوب نے کہا کہ کار کے پلانٹ کے حوالے سے 1.2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور یہ تقریباً 200 ارب روپے بنتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی کوششوں سے پاکستان اس جرمانے سے بچ گیا ہے ۔ حکومت نے ٹھوس حکمت عملی سے کار کے کیس میں200 ارب روپے کے جرمانے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد نئے معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ معاہدہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ سابقہ حکومتوں نے مہنگے معاہدے کئے تھے۔ آئی پی پیز کے مالکان اور فنی ماہرین کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں اس سے ملک کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ منڈا ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم، کوہالہ پن بجلی منصوبے اور کروٹ پن بجلی منصوبوں سے مجموعی طورپر 6500 سے 7000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ سستی بجلی کے لئے پن بجلی کے متعدد منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ حکومتی کوششوں سے ہوا سے بجلی پید ا کرنے 800 میگاواٹ کے 15 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ 60 میگاواٹ کے بگاس کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو اس وقت صرف 2 ہفتے کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تھے اور بے تحاشا لوڈ شیدنگ تھی۔ لائنیں ٹرپ ہو رہی تھیں لیکن ہم نے ستمبر 2018ءسے لے کر اب تک 500 کے وی اور 200 کے وی لائنو ںکی رکاوٹیں دور کرکے سسٹم میں 4500 میگاواٹ اضافی بجلی شامل کی ہے۔ سردیوں میں بہت زیادہ ٹرپنگ ہوتی تھی اس کو بھی بہتر بنایا گیا اور پچھلے سال ایک بھی لائن ٹرپ نہیں ہوئی۔ مٹیاری لاہور ایچ وی ڈی سی اور کاسا 1000 پراجیکٹ پر بھی کام جاری ہے۔ گرڈ سٹیشنز کی استعداد بھی 7200 میگاواٹ تک بڑھایا گیا ہے جبکہ 2800 سے 3000 کلومیٹر نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ این ٹی ڈی سی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے ۔پہلی بار آئندہ کے لئے بجلی کی ضرورت اور پیداوار کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 2046ءتک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے لائن لاسز میں1.4 فیصد کمی آئی ہے۔ 8390 انجینئرز اور ملازمین کو مستقل کیاگیا ہے ۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں 10 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ موجودہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چھوڑ کر نئی کمپنیاں بھی بنائی جائیںگی۔بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ایریل بنڈل کیبلز کی تنصیب ہو گی۔ نئی انڈسٹریل سٹیٹ بنائیں گے جن میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گااور ہمارا یہ ہدف ہے کہ گردشتی قرضے کا بہاﺅ بھی کم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب خان نے کہا کہ تیل نہ پیدا کرنے والے ممالک میں ایشیا میں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت سب سے کم ہے۔ ہم نے ذخیرہ اندوزی کرنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپوں کیخلاف بھی کارروائی کی، اب سسٹم میں بھی تبدیلی لائی جا رہی ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں جو تیل ذخیرہ کرتی ہیں ان کے اعداد و شمار آن لائن اوگرا کے پاس آئیں گے، یہ ٹیکنالوجی اب لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے افراط زر اور تیل کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اب بہتری آئی ہے۔ آج سیمنٹ کمپنیاں بھی 70 سے 75 فیصد کی استعداد پر چل رہی ہیں اور کورونا کی وجہ سے پڑوسی ممالک کی جو صورتحال تھی پاکستان اس کے مقابلے میں بہت محفوظ رہا ہے اس میں وزیراعظم کی نیک نیتی شامل ہے اسی لئے ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بجلی کی ترسیل کا نظام 18 ہزار 500 میگاواٹ تھا جبکہ اس وقت ہم 24 ہزار میگاواٹ بجلی کی سسٹم میں ترسیل کر رہے ہیں۔ ترسیل میں 4500 سے 5000 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنوں کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور پشاور میں شیخ محمدی گرڈ پر بھی اسی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ٹرانسمیشن لائنوں میں بہتری سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر برائے آ بی وسائل فیصل واڈا نے کہا کہ داسو، مہمند اوردیامر بھاشا ڈیم پرکام شروع ہوچکا ہے، ملک بھر میں 112 چھوٹے ڈیمز بھی بنائے جا رہے ہیں، منصوبوں کیلئے 80 فیصد فنڈز وزارت آبی وسائل، 20 فیصد حکومت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انرجی کے معاملات میں 25 فیصد ہماری وزارت کاحصہ ہے، میری وزارت میں منصوبوں کی رقم 1.1 ٹریلین ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام منصوبے 7 سے 8 سال کے بعد مکمل ہوں گے، ڈیمزمیں کوئی تفریق نہیں، تمام صوبوں میں ڈیمز بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے منصوبوں کےلئے صرف 20 فیصدحکومت سے پیسہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت آبی وسائل کے منصوبوں سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے وزارت بحری امورسے متعلق نہیں سوچا بلکہ پورٹ قاسم کے پلاٹوں کی فروخت کی باتیں ہوتی تھیں،بلیو اکانومی کا تصورعوام کے لیے نیا تھا ، لوگ بلیو اکانومی سے متعلق پوچھتے تھے ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے ان کی وزارت کی کارکردگی کو سراہا ہے ، دنیا کے بڑے شہر پورٹ سٹی ہیں ، کوسٹل ٹورازم کی وجہ سے سمندر کنارے زمینیں مہنگی ہوتی ہیں ۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر قبضے کر لیے گئے اور گزشتہ حکومتوں کے ایم پی ایز اس میں ملوث تھے ۔ ماضی کی حکومتوں نے ماہی گیری کے شعبے کو بھی نظر انداز کیا ،ہماری فشریز کی سالانہ ایکسپورٹ 450ملین ڈالر کے قریب ہیں ۔ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو معلوم ہوا کہ پاکستان کا فریٹ بل ساڑھے 5ارب ڈالر بنتا تھا ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے پاس 9جہاز تھے جس میں 2نئے جہاز موگیس کے لیے شامل کیے گئے ،نئی شپنگ پالیسی میں مراعات دی گئی ہیں ۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس زمین کی قیمت 15ارب ڈالر ہے ، اس کے حوالے سے پلان بنا رہے ہیں ، ماضی میں پورٹ قاسم میں ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے لگتی تھی ، سرکاری کاغذوں میں ڈیڑھ کروڑ شو کر کے باقی پیسے علیحدہ پکڑ لئے جاتے، اب ہم نے پلاٹوں کے حوالے سے پورٹ قاسم کو زمین لیز کرنے کی اجازت دی ہے ، انہوں نے بتایا کہ جاپان کے تعاون سے شعبہ فشریز کو جدید ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے منصوبے پر کام ہورہا ہے جس کے تحت فشریز مصنوعات کو یہیں پر پراسسینگ کر کے بیرون ممالک بھجوایا جائے گا ، ماہی گیروں کو ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے وزارت سنبھالی ہے اس کے بعد پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اپنے ذمہ 4.7ارب کالون واپس کرچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فلپائن سی فیئرر کی ذریعے سالانہ 6ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ اس حوالے سے ہماری آمدن 50ملین ڈالر سے بھی کم ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے اور اس وقت ہم 3.7 ارب مکعب فٹ پیدا کر رہے ہیں جس میں سالانہ ساڑھے9 فیصد کی شرح سے کم ہو رہی ہے، پچھلی حکومت کے دور میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے ایک بھی لائسنس نہیں دیا گیا اور لائسنس جاری ہونے کے بعد تین سے پانچ سال تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت تک لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے دو سال میں ڈرلنگ میں اضافہ کیا ہے، 26 نئے ذخائر سے 240 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور سات ہزار بیرل یومیہ تیل حاصل ہو رہا ہے، 10 نئے بلاکس کا ٹینڈر دےدیا ہے، 20 مزید بلاکس ستمبر میں نیلام کریں گے، یہ ہم نے مارچ میں نیلامی کیلئے پیش کرنے تھے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے نیلام نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی پیداوار کا مکمل ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ڈیٹا بیس اور ڈیش بورڈ بنا دیا ہے، پہلے ایل این جی صرف حکومت درآمد کرتی تھی، پرانے معاہدوں کی قیمت بھی زیادہ تھی، پچھلے ڈیڑھ سال سے ہم 20 سے 25 فیصد ایل این جی کم قیمت پر خرید رہے ہیں اور اگست کے پہلے ہفتہ میں 2.2 ڈالر کی قیمت پر کارگو یہاں پر لایا گیا ہے جو کہ اس خطہ میں سب سے کم قیمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ نئے پرائیویٹ ٹرمینلز کے قیام کی اجازت دےدی گئی ہے، پرائیویٹ کمپنیاں خود ایل این جی منگوا سکتی ہیں، اس کیلئے انہیں حکومتی ضمانت کی بھی ضرورت نہیں ہو گی، ایگزون اور مٹسوبشی دسمبر سے خود اس پر کام شروع کر دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں پر بھی کام سست روی کا شکار تھا، ہم نے اس پر پیشرفت کی ہے، تاپی کے حوالہ سے تمام معاہدے ہو گئے ہیں اور ہم قیمت میں بھی کمی کرائیں گے، یہ مرحلہ دو تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور ترکمانستان آئندہ سال جنوری، فروری میں کام شروع کرنے کا خواہاں ہے، کراچی سے لاہور تک نئی پائپ لائن بچھانے کیلئے روٹس، سروے اور ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، تین سے چار ماہ میں اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورو V پٹرول ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اہم ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر تیل کا معیار تبدیل کیا گیا ہے، یکم ستمبر کے بعد تمام پٹرول یورو V اور 31 دسمبر کے بعد تمام ڈیزل یورو V سٹینڈرڈ پر درآمد ہو گا۔ ندیم بابر نے کہا کہ تمام ریفائنریاں اپ گریڈ کی جا رہی ہیں، پارکو کوسٹل ریفائنری پر ڈیڑھ سال میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، ڈیزائن، لائسنسنگ اور انجینئرنگ کا کام مکمل کیا گیا ہے، یہ ملک کا سب سے بڑا تقریباً 7 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، آئندہ موسم گرما تک اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے شیخوپورہ تک وائٹ آئل پائپ لائن کو بھی دو رویہ کیا جا رہا ہے، آنے والے ہفتوں میں اس پر ڈیزل اور پٹرول دونوں کی ترسیل ہو گی، اس کا دائرہ شیخوپورہ سے تارو جبہ پشاور تک بڑھایا جائے گا، اس پر بھی ایک سے ڈیڑھ ماہ میں کام شروع ہو جائے گا جس سے کراچی سے پشاور تک تیل اور ڈیزل کی سپلائی پائپ لائن کے ذریعے ہو گی اس سے سڑکوں پر ٹریفک کے دباﺅ میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں گیس کے 25 لاکھ کنکشن التواءکا شکار ہیں، جب تک گیس کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا کنکشن کا مسئلہ رہے گا۔








