وزارت اطلاعات و نشریات نے ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اے پی پی سی، پی بی سی، پی ٹی وی اور ایس آر بی سی کو ڈیجیٹلائز اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات اٹھائے، دو سالہ کارکردگی رپورٹ

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزارت اطلاعات و نشریات نے ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی سی)، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی)، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) اور ایس آر بی سی کو ڈیجیٹلائز اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات اٹھائے جس سے ان اداروں کی استعداد کار …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزارت اطلاعات و نشریات نے ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی سی)، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی)، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) اور ایس آر بی سی کو ڈیجیٹلائز اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات اٹھائے جس سے ان اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے۔ عہدنو، جدوجہد اور کامیابی کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر جاری کارکردگی رپورٹ کے مطابق اگست 2018ءسے قبل میڈیا انڈسٹری کی سہولت اور ترقی کیلئے قواعد و ضوابط کا فقدان تھا جسے بہتر بنانے کیلئے موجودہ حکومت نے مختلف پالیسیاں متعارف کرائیں جو وزارت کے کردار کو مزید مستعد اور فعال بنانے میں مددگار ہوں گی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مختلف شعبوں کو ترقی دینے کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے ان میں ڈیجیٹل میڈیا کا قیام، اشتہاری پالیسی (بشمول ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزنگ کے طریقہ کار) کی تشکیل، علاقائی اخبارات کیلئے اشتہاری فریم ورک کی تیاری، فلم پالیسی کا نفاذ، پریس رجسٹرار آفس، آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی)، سنٹرل میڈیا لسٹ کی جدت اور تشکیل نو بھی شامل ہے۔ مستحق صحافیوں اور صحافتی تنظیموں بالخصوص پریس کلبوں کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے دی جانے والی امدادی رقوم کی تقسیم کے طریقہ کار کو شفاف بنایا گیا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز (ڈیمپ) کے اشاعتی شعبہ نے 99 کتب شائع کرائیں جن میں رائزنگ پاکستان، انڈس فیسز، ماہ نو، منو بھائی نمبر، فراز نمبر اور حبیب جالب نمبرکے شمارے شامل ہیں۔ فلم ونگ کی طرف سے دو نغمے تیار کئے گئے جن میں ایک ملی نغمہ اور ایک گردوارہ کرتارپور کے حوالے سے تیار کیا گیا خصوصی نغمہ شامل ہے جبکہ 12 دستاویزی فلمیں، 3 پرومو اور قومی مواقع کیلئے دو ڈاکومنٹریاں تیار کی گئیں۔ وزارت اطلاعات کے ایگزیبیشن ونگ کی طرف سے تمام قومی مواقع پر پہلی مرتبہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ڈیمپ کی طرف سے نمائشوں کا انعقاد کیا گیا۔ دو سال کے دوران مجموعی طور پر 13 نمائشیں منعقد کی گئیں اور تمام ڈیزائننگ، کارڈز کی تیاری ازخود کی گئی۔ مانیٹرنگ ونگ کی جانب سے اس وقت پچاس سے زائد ٹی وی چینلز کی ڈیمپ کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جو اس سے قبل صرف 12 چینلز تک محدود تھی جس کے ذریعے قومی خزانے کو 18 ملین روپے حاصل ہوئے۔ سائبر ونگ کی طرف سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں ڈسکور پاکستان سائبر ونگ کے تحت کیو آر کوڈز بھی متعارف کرائے گئے ہیں جس میں پاکستان کی خوبصورت سرزمین کے حوالے سے یو آر لنک بھی جاری کیا گیا ہے ۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے حو الے سے معلومات کی فراہمی کیلئے نیوز ڈیٹا بینک بھی قائم کیا گیا۔ سائبر نیوز ڈیٹا بینک کے قیام کا مقصد خبر کی شکل میں مصدقہ اور باوثوق معلومات کی ایک کلک کے ذریعے فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے ملک میں کنزیومر ریسیور پر ایف ایم آزمائشی ٹرانسمیشن کیلئے ڈیجیٹل ریڈیو سسٹم (ڈی آر ایم) کامیابی سے متعارف کرایا ہے۔ ایسے اقدام سے پاکستان، روس، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ سے منسلک ہو گیا ہے اور حال ہی میں ایف ایم بینڈ پر ڈی آر ایم کے معیار اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیم نے موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے تاکہ اس کے چینلز اور سٹیشنز کی نشریات ریڈیو پاکستان آفیشل پر سنی جا سکیں۔ پی بی سی ویب سائٹ اور اینڈرائیڈ ایپلیکیشنز پر چینلز کی تعداد 25 تک بڑھ گئی ہے۔ دو سال کے دوران ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے مختلف شعبوں میں جدت کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ پیپر فری انوائرنمنٹ، اسائنمنٹ، خبروں کی منتقلی، ای فائلنگ، اکاﺅنٹ مینجمنٹ، ہیومن ریسورس کے ریکارڈ کے انتظام اور کارکردگی کے جائزے کیلئے سافٹ ویئر سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور عملہ کو جدید آلات فراہم کئے گئے ہیں۔ غیر ضروری ملازمتوں کا خاتمہ، غیر پیداواری سٹیشنز کی بندش کے ساتھ ساتھ نئی مہارت کی حامل ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں اور مارکیٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا سروسز اور ڈیجیٹل ٹی وی چینل جیسے نئے قائم کئے جانے والے شعبوں میں عملے کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اے پی پی سی کی کارکردگی اور آمدنی میں 50 فیصد اضافہ ہوا، بجٹ کے نقصانات پر قابو پایا گیا ہے اور ایک ایڈیٹوریل بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔

مزید خبریں