وزارت انسانی حقوق نے 2 سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزارت انسانی حقوق نے بدھ کو اپنی 2 سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور پہلے سے موجود قوانین میں مزید بہتری لانا اولین ترجیح رہی اور گزشتہ دو برس کے دوران زینب الرٹ، رسپانس اورریکوری ایکٹ 2019ئ، قانونی معاونت وانصاف اتھارٹی ایکٹ 2020ئ، جدول کے …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزارت انسانی حقوق نے بدھ کو اپنی 2 سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور پہلے سے موجود قوانین میں مزید بہتری لانا اولین ترجیح رہی اور گزشتہ دو برس کے دوران زینب الرٹ، رسپانس اورریکوری ایکٹ 2019ئ، قانونی معاونت وانصاف اتھارٹی ایکٹ 2020ئ، جدول کے حصہ اول میں ”بچوں سے کرائے جانے گھریلوکام“ کا اندراج، ملازمت بچگان ایکٹ1991،دیت ،عرش اوردامان فنڈکے قواعدمیں ترمیم کی گئی (غریب قیدیوں کی عمر 60 سے کم کرکے 40سال کردی گئی )،آئی سی ٹی تحفظ بچگان ایکٹ 2018 اور نظام انصاف برائے بالغان ایکٹ 2018ءمنظور کرائے گئے۔اسکے علاو¿ہ مختلف قوانین کے مسودات بھی تیارکئے گئے جن پر کام جاری ہے ان میں آئی سی ٹی حقوق معذورافرادکابل 2020۔تشدد،حراستی موت اورحراستی زیادتی (تدارک اورتعزیر) کا بل 2020ئ، مسیحی ازدواج وطلاق بل 2020۔گھریلوتشددکابل2020 اور بزرگ شہریان بل 2020ءشاملِ ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق وزارت نے کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور ہونے والی خلاف وزریوں کے6094معاملات ودادرسی کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔اس کے علاو¿ہ پاکستان سٹیزن پورٹل پرموصولہ شکایات کاازالہ کیا گیا 16924شکایات کارروائی کیلئے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئیں۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار 508متاثرین کو65لاکھ 20ہزار روپے کی مالی امداد بھی دی گئی۔اس کے علاوہ ہیلپ لائن 1099پر499,466کالیں موصول ہوئیں اور 10,133اہل فون کرنے والوں کو قانونی خدمات فراہم کی گئیں اور اسلام آباد میں وزارت انسانی حقوق ویمن شیلٹرکے ذریعے خواتین کے 1265معمالات کاازالہ کیاگیا۔نیشنل چائلڈپروٹیکشن سینٹر اسلام آبادنے 67بچوں کوعارضی طورپرپناہ گاہ فراہم کی اورانہیں ان کے خاندانوں سے ملایا۔مذکورہ سنٹرنے 185بچوں کو غیر رسمی تعلیم بھی فراہم کی۔رپورٹ کے مطابق 84انسانی حقوق متاثرین کے معاملات میں وزیربرائے انسانی حقوق نے ذاتی طورپراٹھائے اوران کاازالہ کروایا گیا۔اس کے علاوہ وزارت کی طرف سے تعلیم ،احساس بیدارکرنااورآگاہی کے لیے مختلف پروگراموں کا بھی آغاز کیا گیا جن خواتین کے وراثت سے متعلق عوامی آگاہی مہم ،بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی روک تھام کے بارے میں آگاہی، خواجہ سراءکے حقوق کے حوالے سے پویلینس عہدیداروں میں شعوراجاگرکرنا،بچوں کے حقوق کے بارے میں ٹرکوں میں مصوری کے ذریعے آگاہی پیداکرنا،معذورں کے حقوق بارے میں آگاہی،بزرگ افرادبارے میں آگاہی،انسانی حقوق سے متعلق فلمی میلہ میں 12فلموں کی نمائش اورپینل بحث ومباحثہ،قیدیوں اورفرائض انجام دینے والوں کے لئے کوویڈ19پرآگاہی مہم، بربل میں پی ڈبلیوڈی کے حقوق کی بابت کوویڈ19پرآگاہی،سندھ اوربلوچستان میں ماتحت عدلیہ کاحساس ہونا اورانسانی حقوق سے متعلق مختلف ویڈیوزکے ذریعے سوشل میڈیاپرمہم چلائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق خواتین کے حوالے سے قوانین پرعمل درآمد اور ادارہ جاتی ترقی پر بھی کام کیا گیا جن میں این سی آرایکٹ2017ءکے تحت بچوں کے حقوق پرکمیشن قائم کیا۔ خواجہ سرا افراد (حقوق کے تحفظ )ایکٹ 2018ءپرعملدر آمدکے لئے قومی کمیٹی تشکیل دی گئی۔آئی سی ٹی چائلڈپروٹیکشن ایکٹ ،2018ءکے تحت چائلڈپروٹیکشن بورڈقائم کیا۔رحم کی درخواستوں کاجائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ گداگر بچوں سے متعلق مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔انسانی حقوق سے متعلق ایکشن پلان 2016پرنظرثانی۔بچوں سے بدسلوکی پر ایکشن پلان، آئی سی ٹی کی سطح پربچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کےلئے بچوں سے بدسلوکی کے بارے میں بین الاقوامی پروٹوکول تیار کرنا۔خواتین اورلڑکیوں کے خلاف تشددکے بارے میں ماڈل پالیسی کامسودہ تیارکرنا اورمذہبی ظلم وستم کے ضمن میں ایکشن پلان شامل تھے۔اس کے علاوہ تحقیق اورسروے کے شعبہ پر بھی بھرپور توجہ دی گئی جن آئین اورمعاہدوں کے ساتھ قانونی فریم ورک کی ہم آہنگی پرتحقیقی مطالعہ،قومی چائلڈلیبرسروے کاآغاز،کمیشن کی جانب سے قیدیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق رپورٹ IHCکوپیش کی گئی۔اس کے ساتھ خواتین قیدیوں کی حالت زار کے بارے میں تحقیقی رپورٹ کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور قومی سروے میں واشنگٹن سوال متعارف کرایاگیا۔ رپورٹ کے مطابق وزارت نے دوسال کے دوران اپنے دیگر اقدامات پر بھی کام جاری رکھا ہوا ہے۔

مزید خبریں