اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان کا نہیں دنیا میں ایک صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم عمران خان کی مہلک وبا کے خلاف حکمت عملی کامیاب رہی اور پوری دنیا پاکستانی حکومت کے اقدامات کی تعریف کر رہی ہے جو ہر پاکستانی کیلئے فخر کی بات ہے، حکومت …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان کا نہیں دنیا میں ایک صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم عمران خان کی مہلک وبا کے خلاف حکمت عملی کامیاب رہی اور پوری دنیا پاکستانی حکومت کے اقدامات کی تعریف کر رہی ہے جو ہر پاکستانی کیلئے فخر کی بات ہے، حکومت چاہتی ہے کہ بدعنوان عناصر کے خلاف احتسابی عمل منطقی انجام تک پہنچے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وفاقی حکومت سیاسی اختلافات کے باوجود سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی میں تاریخی ترقیاتی کام کرنے جا رہی ہے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا نے گزشتہ ایک صدی میں کورونا وائرس جتنا بڑا چیلنج نہیں دیکھا، پوری دنیا میں منفرد صورتحال پیدا ہوئی، امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں صحت کے نظام مفلوج ہو گئے اور ان کی معیشتیں تباہ ہو گئیں، خطے میں ایران اور بھارت ابھی بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اسمارٹ لاک ڈاﺅن حکمت عملی کی بدولت پاکستان وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا، بحران کے دوران صحت کے ساتھ ساتھ معیشت کو بحال رکھنا بھی بہت بڑی کامیابی ہے اور اسی لئے دیگر ممالک کے مقابلے میں ملکی معیشت کو کم نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتے تھے اسلئے اپوزیشن جماعتوں نے پہلے دن ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ حکومت کو نہیں چلنے دینا اور وہ حکومت کیلئے مسائل اور رکاوٹیں کھڑی کرتی آئی ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان ثابت قدمی کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق حکمران بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں میں ملوث رہے اور ان کے خلاف شواہد بھی موجود ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ ان کے خلاف احتسابی عمل منطی انجام تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا سارا سیٹ اپ اپوزیشن کا لگایا ہوا ہے، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر کیسز ان کے اپنے دور حکومتوں کے دوران بنے ہوئے ہیں اور نیب انہی کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پہلے دن سے اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی تھی تاہم اپوزیشن نے تعاون نہ کیا، کورونا بحران کے دوران وفاق نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ کراچی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اس کی حالت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کراچی کی بہتری کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی کے شہریوں کو حقوق دلانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر کراچی کے چھ پسماندہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اگلے دو ہفتوں میں فہرست سامنے آ جائے گی کہ کن کن علاقوں میں وفاق اور سندھ حکومت نے کام کرنے ہیں، وفاقی حکومت کراچی کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی سابقہ حکومت 20 ارب ڈالر کا ریکارڈ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ چھوڑ کر گئی تھی، وزیراعظم عمران خان کی جامع پالیسیوں اور سخت فیصلوں کی بدولت دو سال میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم کر کے 3 ارب ڈالر سالانہ پر لے آئے ہیں، ریونیو اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی اعشاریے مثبت ہیں اور اب پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کو بااختیار بنانا موجودہ حکومت کے منشور کی ترجیحات میں شامل ہے، کورونا بحران کی وجہ سے اس کام میں تاخیر ہوئی تاہم اب اس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اداروں کی بہتری کیلئے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔








