پاک سعودی تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں، سعودی عرب کیساتھ ہمارے مظبوط تعلقات ہیں، پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، فلسطین سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بھارت نے مقبوضہ کشمیر …

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں، سعودی عرب کیساتھ ہمارے مظبوط تعلقات ہیں، پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، فلسطین سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہمیشہ خوشگوار اور قریبی تعلقات رہے ہیں جو مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور سماجی رشتوں کے مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں، سعودی عرب کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلقات ہیں اور پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے حالیہ میڈیا ریمارکس اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا حال ہی میں دورہ سعودی عرب دو برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ اور قریبی رابطوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی، سیاسی، سیکورٹی اور ملٹری سمیت تمام سطح پر مضبوط تعاون قائم ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ میں سعودی عرب کے اہم کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ فلسطین سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایسا حل چاہتے ہیں جس میں القدس شریف فلسطین کا دارالحکومت ہو۔کشمیر سے متعلق ترجمان نے بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرقہ ورانہ تشدد بھڑکانے اور مسلمانوں کو ہدف بنانے کی سازش ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں بین الاقوامی برادری کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا۔کشمیر سے متعلق ترجمان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرہ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا جارہا ہے تاہم کشمیریوں کی قربانیاں جدوجہد آذادی کو مستحکم کر رہی ہیں۔ ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا محاسبہ کرے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت جبر و تشدد سے کشمیریوں کی آذادی کو دبا نہیں سکتا۔ کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق ترجمان نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں چار نکات شامل تھے۔ کلبھوشن کو قونصلر رسائی بھی دینا اس میں شامل تھا۔ بھارت کو دوبارہ وکیل مقرر کرنے اور تیسری قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے۔امید ہے بھارت پاکستانی عدالتوں سے تعاون کرے گا۔

مزید خبریں