اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے، عمران خان کی جدوجہد خاص مقصد کے لئے تھی، مفاد پرستی اور کرپشن کی سیاست آخری سسکیاں لے رہی ہے، عوام کو ریلیف دینا سب سے اہم حکومتی ترجیح ہے، ٹھوس اقدامات سے مثبت نتائج سامنے …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے، عمران خان کی جدوجہد خاص مقصد کے لئے تھی، مفاد پرستی اور کرپشن کی سیاست آخری سسکیاں لے رہی ہے، عوام کو ریلیف دینا سب سے اہم حکومتی ترجیح ہے، ٹھوس اقدامات سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، پاکستان کو ترقی دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے، وزیراعظم عمران خان نے نئی نسل کے مستقبل کے امین ہیں، میڈیا پر نہ کوئی قدغن ہے اور نہ ہی قدغن لگانے کی کوئی خواہش، معاشی حالات کی بہتری کے ثمرات میڈیا کو بھی منتقل ہوں گے، برآمدات میں اضافے سے مواقع بھی بڑھیں گے، گزشتہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا اور اس مد میں چھ ارب ڈالر خرچ کئے۔ جمعرات کو یہاں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کے ہمراہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عزم کے ساتھ ہماری دو سالہ کارکردگی کو سنا اور وفاقی وزراءکی طرف سے پیش کی گئی کارکردگی کو کوریج فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ تمام کابینہ کے اراکین یہاں پیش ہوں اور اپنی اپنی متعلقہ وزارت کی کارکردگی سے آگاہ کریں۔ طویل نشست کی وجہ سے صحافیوں کے سوالات بھی لئے گئے لیکن اس میں کچھ تشنگی رہی جس کے لئے ایک میکنزم اور ٹائم شیڈول جاری کریں گے تاکہ متعلقہ وزارتوں کے بیٹ رپورٹرز اپنے متعلقہ وزراءسے جواب طلب کر سکےں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ عوامی نمائندے تمام اقدامات سے عوام کو ضرور آگاہ کریں اور اس سرگرمی کے انعقاد کا مقصد بھی یہی تھا اور یہ جمہوری حکومت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے نئی نسل کے مستقبل کے امین ہیں، مفاد پرستی اور اقرباءپروری کی سیاست آخری سسکیاں لے رہی ہے جس کی بازگشت اپوزیشن کی حالیہ پریس کانفرنسوں اور بیانات میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو سال میں ملک کو تبدیل تو نہیں کر سکتے لیکن ٹھوس اقدامات سے بہتری کی جانب گامزن ہوئے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب پانچ سال پورے کرے گی تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک تبدیل ہو چکا ہو گا، معاشی حالات بہتر ہوں گے اور اس کے ثمرات عوام تک منتقل ہو رہے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 جیسے بحران کے باوجود اشیاءضروریہ کی قلت پیدا نہیں ہونے دی، ذخیرہ اندوزی اور اشیاءکی قیمتیں زیادہ ضرور ہیں لیکن قیمتوں کو کم کر کے عوام ریلیف دینا ہماری ذمہ داری ہے، کوویڈ 19 میں کامیابیوں کے بعد اب اچھے دن آنا شروع ہو گئے ہیں، تجارت کو فروغ مل رہا ہے اور معاشی اشاریئے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کی صورتحال خراب ملکی معاشی صورتحال کی وجہ سے ہے، نجی شعبہ کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ سرکاری اشتہارات میں بھی کمی ہوئی لیکن اب اقتصادی مشکلات گزر چکی ہیں اور اچھا وقت آنے والا ہے اور امید دلاتا ہوں جس طرح برآمدات بڑھ رہی ہیں، اسی طرح مواقع بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاﺅسز کے 80 فیصد واجبات ادا کر چکے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ میڈیا اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک کابینہ کے بعض اراکین کی تبدیلیوں کا سوال ہے، ہماری ٹیم کا ایک کپتان ہے، کپتان جس کھلاڑی کو جہاں کھلانا چاہتا ہے یہ اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ اس میں ردو بدل کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا چیئرمین رہ چکا ہوں، سٹریٹجک ٹرید پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں آیا تھا لیکن اس کے بعد اس پر کوئی کام نہیں ہوا، اب یہ پالیسی وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کوویڈ 19 کا بحران آیا تو اس نے پوری دنیا کی معیشت کو تہس نہس کر دیا لیکن ہم نے اپنی موثر حکمت عملی کے ساتھ ہمت نہیں ہاری اور دنیا کے مقابلے میں اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی جدوجہد کا محور ہمیشہ کمزور طبقات رہے ہیں اور اس کڑے وقت میں بھی دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی اختیا رکی گئی، تعمیراتی شعبہ کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تاکہ دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ روزگار کما سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، ہم اداروں کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوکریاں دینا افضل ہوتا ہے لیکن نوکریاں فروخت کرنا نہیں، ماضی کی حکومتوں نے ملازمتیں فروخت کیں جس کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے اور اس حوالے سے ریڈیو، ٹی وی کی مثال سب کے سامنے ہے، معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، میڈیا کو جب اشتہارات ملیں گے تو امید ہے کہ اس کے ثمرات میڈیا ورکرز تک بھی پہنچیں گے، ہم نے میڈیا انڈسٹری کے 80 فیصد واجبات ادا کر دیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ ساتھ سائبر کرائمز بل کے نفاذ کے لئے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا اور اس مد میں چھ ارب ڈالر خرچ کئے۔








