پشاور۔20اگست(اے پی پی )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹبلشمنٹ محمدشہزادارباب نے کہاہے کہ افغان ٹریڈ بڑھانے اورمعیشت کومستحکم کرنے کیلئے سرخ فیتہ کسی صورت قبول نہیں،افغانستان ہماراکئی دہائیوںسے اچھاہمسایہ رہاہے،افغان ٹریڈبڑھاناموجودہ حکومت کامطمع نظرہے،ٹریڈکاسٹ کم سے کم رکھناہماری اولین ترجیح ہے۔انہوںنے کہاکہ کوروناوباءکے باعث ان چندمہینوںمیں 3ہزار 300مال بردارگاڑیاںابھی تک کھڑی ہیںجن کاکلیئرکرناناگزیرہے،طورخم بارڈرپراب 700سے 800تک مال بردارگاڑیاںمنگل تک کلیئرہوناشروع ہوجائیںگے۔انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ ضلع کرک اورمتنی پشاورمیںبھی پارکنگ …
افغان ٹریڈ بڑھانے اورمعیشت کومستحکم کرنے کیلئے سرخ فیتہ کسی صورت قبول نہیں،معاون خصوصی شہزاد ارباب

مزید خبریں
پشاور۔20اگست(اے پی پی )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹبلشمنٹ محمدشہزادارباب نے کہاہے کہ افغان ٹریڈ بڑھانے اورمعیشت کومستحکم کرنے کیلئے سرخ فیتہ کسی صورت قبول نہیں،افغانستان ہماراکئی دہائیوںسے اچھاہمسایہ رہاہے،افغان ٹریڈبڑھاناموجودہ حکومت کامطمع نظرہے،ٹریڈکاسٹ کم سے کم رکھناہماری اولین ترجیح ہے۔انہوںنے کہاکہ کوروناوباءکے باعث ان چندمہینوںمیں 3ہزار 300مال بردارگاڑیاںابھی تک کھڑی ہیںجن کاکلیئرکرناناگزیرہے،طورخم بارڈرپراب 700سے 800تک مال بردارگاڑیاںمنگل تک کلیئرہوناشروع ہوجائیںگے۔انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ ضلع کرک اورمتنی پشاورمیںبھی پارکنگ ایریاکادو تین دن میںبندوبست کیاجارہاہے جبکہ پارکنگ کیلئے حمزہ بابالنڈی کوتل بھی پیرتک کسٹم حکام کے حوالے کردی جائیگی،طورخم بارڈرکے قریب بھی ایک دودن میںڈی سی خیبرخالی کراکے کسٹم حکام کے حوالے کردیںگے۔انہوںنے کہاکہ خرلاچی بارڈرپوائنٹ سے بھی روزانہ200مال بردارگاڑیاںکلیئرکی جائیںگی جبکہ غلام خان بارڈرپوائنٹ جوکہ غیرفعال کے سلسلے میںافغان حکومت سے رابطہ کرکے غلام خان بارڈرپوائنٹ کوبھی آئندہ ہفتے فعال کرکے افغان ٹریڈکیلئے کارآمدبنائیںگے،افغانستان کیساتھ ٹریڈ3ارب ڈالرتک بڑھائیںگے۔ان خیالات کااظہارانہوںنے سول سیکرٹریٹ پشاورمیںپاکستان-افغانستان کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیںوزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹبلشمنٹ محمدشہزادارباب کوافغان ٹریڈکے حوالے سے مفصل بریفنگ بھی دی گئی۔اس موقع پرACSشکیل قادر،ڈپٹی کمشنرضلع خیبرمحموداسلم وزیر،سیکرٹری انڈسٹریز جاویدمروت، چیف کلکٹرکسٹم،پولیس حکام ودیگرمتعلقہ اداروںکے اعلیٰ حکام بھی موجودتھے۔محمدشہزادارباب نے کہاکہ انگوراڈہ بارڈرپوائنٹ پرمعمول کے مطابق ٹریڈہورہاتھامگروہاںپرکسٹم کی موجودگی نہیںتھی اب انگوراڈہ میں کسٹم کی موجودگی کوبھی یقینی بنائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ ،کرک،انگوراڈہ،متنی،غلام خان اورحمزہ بابالنڈی کوتل پسماندہ علاقے ہیں تاہم ان علاقوںمیںمیںکاروباری سرگرمیوںسے نہ صرف وہاںکے مقامی لوگوںکوروزگارکے مواقع فراہم ہوںگے بلکہ ان علاقوںمیںمزیدامن اور خوشحالی کی فصل لہلہانے لگے گی ۔انہوںنے کہاکہ طورخم بارڈرپرمتعلقہ سرکاری اداروںکوٹارگٹ دیئے گئے ہیںاورانشاءاللہ 10دنوںتک یہ تمام مال بردارگاڑیاںکلیئرکردی جائیںگی،افغان ٹریڈبڑھانے کیلئے بارڈرپوائنٹ کومزیدفعال بنائیںگے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی محمدشہزادارباب نے کہاکہ پاکستان میںامن کاقیام افغانستان میںامن کے قیام سے مشروط ہے، اگر افغانستان ترقی کریگاتوڈیمانڈزیادہ ہوگی اوراس کے ذریعے سے ہم سنٹرایشیاءتک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم پرامن افغانستان کے خواہاںہیں،شروع سے ہم افغانستان اچھے تعلقات کے متمنی تھے اورآج تک افغانستان ایک اچھاہمسایہ رہاہے۔انہوںنے کہاکہ ان تمام تراقدامات سے نہ صرف عام آدمی مستفیدہوگابلکہ پاکستان کی ریونیومزیدبڑھے گی اورمعیشت مزیدمستحکم ہوتی جائیگی۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کے وعدے کے مطابق ٹریڈبڑھانے اورمعیشت کے استحکام کیلئے تمام وسائل وموثرپیمانے بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔








