اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہیں، بلاشبہ حکومت وہ ہوتی ہے جس کے دل میں عوام کا درد ہو، وزیراعظم عمران خان نے اسی درد کے تحت قوم کا احساس کیا اور ملک میں مسافر خانے اور لنگر خانے قائم کئے، ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ …
ملک کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہیں،کورونا کی صورتحال کے باوجود ہم نے پارلیمانی سال کے 133 دن پورے کئے،وزیر مملکت علی محمد خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہیں، بلاشبہ حکومت وہ ہوتی ہے جس کے دل میں عوام کا درد ہو، وزیراعظم عمران خان نے اسی درد کے تحت قوم کا احساس کیا اور ملک میں مسافر خانے اور لنگر خانے قائم کئے، ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، قانون سازی کے عمل کو مزید فعال اور موثر بنانا چاہتے ہیں، توقع ہے کہ اپوزیشن سے قانون سازی کے حوالے سے ورکنگ ریلیشن شپ میں بہتری آئے گی۔ جمعرات کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وزارت پارلیمانی امور کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر گھر عمران خان اور تحریک انصاف کا پیغام پہنچانے میں میڈیا کردار انتہائی اہم ہے جس کے لئے ہم شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ذہن میں سیاست میں آنے سے پہلے حکومت کا تاثر یہی تھا کہ ہم ملک کے بارے میں سوچیں اور عوام کا درد محسوس کریں، اس لئے میں نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور سیاست میں آیا، ہم نے مشکل فیصلے کرنے ہیں اور صرف اور صرف پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وہ ہوتی ہے جس کے دل میں عوام کا درد ہو، عمران خان نے قوم کا احساس کیا اور اس حوالے سے احساس پروگرام کے تحت ملک میں مسافر خانے اور لنگر خانے قائم کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مجھے جب وزارت پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا تو ساتھ یہ بھی کہا کہ پہلے پہل مشکل پیش آئے گی لیکن پھر آسانی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں، ہر وقت ہم سے ہمارے اثاثوں کی تفصیلات سمیت ہماری کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے اور تمام وزارتوں کی ماں وزارت پارلیمانی امور ہے کیونکہ تمام وزارتوں نے پارلیمانی امور کے ذریعے ہی قانون سازی کرنا ہوتی ہے، شروع شروع میں ایوان کے اندر میں نے وزارت خارجہ، ریلویز اور دیگر وزارتوں کے بھی جوابات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ہمارا اصل مقابلہ سٹیٹس کو اور کرپشن سے تھا، ایسے ماحول میں ہمیں حکومت ملی جہاں ایک طرف اپوزیشن کے لوگ گرفتار ہو رہے تھے، ان حالات میں پارلیمنٹ کو چلانا مشکل کام تھا، میں اپنی کارکردگی کی بات نہیں کرتا، پارلیمنٹ کو آگے بڑھانے میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اعظم خان سواتی سمیت دیگر اکابرین نے انتہائی احسن کردار ادا کیا اور اب بابر اعوان صاحب بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر کا خطاب بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، قومی ایشوز پر قومی اسمبلی میں قانون سازی کی شروع کے ڈیڑھ دو سالوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا لیکن پھر بھی دوسرے پارلیمانی سال میں 48 بل متعارف کرائے گئے اور کورونا کی صورتحال کے باوجود ہم نے پارلیمانی سال کے 133 دن پورے کئے، اسی طرح سینیٹ میں 26 سیشن ہوئے اور مجموعی طور پر پارلیمانی سال کے 265 دن پورے کئے، سینیٹ میں 73 بل متعارف ہوئے، 46 بل منظور کئے گئے اور 34 آرڈیننسز ایوان میں پیش کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مدینہ کی ریاست کی بات کی ہے جو میرے دل کے قریب اور میری زندگی کا مقصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے حضور نبی پاک کے خاتم النبیین کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس میں تمام درسی کتب میں آپ کے نام مبارک کے ساتھ خاتم النبیین لکھنے کو لازمی قرار دیا گیا، اس سے فتنہ قادنیت کا سدباب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے معاملے پر سر عام پھانسی دینے کی قرارداد بھی منظور ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے تمام یونیورسٹیوں پر لازمی قرار دیا ہے کہ قرآن پاک کی اردو ترجمہ کے ساتھ تعلیم لازمی دی جائے گی اس کے بغیر کوئی ڈگری نہیں دی جائے گی، اسی طرح میٹرک کے طلباءکو بھی قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ شروع دنوں میں ہمیں اپوزیشن کی طرف سے مخاصمت کا سامنا تھا مگر اب اپوزیشن کے شکرگزار ہیں، ایف اے ٹی ایف کی بقیہ قانون سازی پر بھی اتفاق ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوتا، وہ زیادہ وقت وزیراعظم شکایات ونگ میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسلام آباد نہیں آ سکتے تھے ہم ان کے پاس چل کر مردان، چکوال، اٹک، صوابی، نوشہرہ، کوئٹہ گئے، مگر سب سے زیادہ خوشی اس بات پر ہوئی جب کوئٹہ میں ہماری اس سلسلے میں لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے بلوچستان کے لوگوں کا بھی حال پوچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شکایات سیل میں کے پی کے، گلگت بلتستان، اسلام آباد سمیت دیگر صوبوں کی طرف سے شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 77 فیصد کا ازالہ کر دیا گیا ہے








