اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کوسرکاری شعبہ کے تحت پاسکو کیلئے 2 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کیلئے آرڈرجاری کرنے کی منظوری دیدی ہے، اجلاس میں عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلزٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیز کو کم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی …
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو سرکاری شعبہ کے تحت پاسکو کیلئے 2 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کیلئے آرڈرجاری کرنے کی منظوری عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلزٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیز کو کم کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کوسرکاری شعبہ کے تحت پاسکو کیلئے 2 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کیلئے آرڈرجاری کرنے کی منظوری دیدی ہے، اجلاس میں عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلزٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیز کو کم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس جمعہ کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقدہوا۔اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کوسرکاری شعبہ کے تحت پاسکو کیلئے 2 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کیلئے آرڈرجاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ قبل ازیں نجی شعبہ کو بھی 5 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی۔سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کمیٹی کو بتایا کہ نجی شعبہ کی جانب سے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جارہی ہے اور اس کی پہلی کھیپ 26 اگست کو پاکستان پہنچ جائیگی۔اجلاس میں بتایا گیاکہ 7 لاکھ ٹن گندم کی درآمد سے آنیوالے مہینوں میں ملک میں گندم اورآٹا کی قیمتوں میں اضافہ کے رحجان ، گندم کی قلت پرقابوپانے اورملک میں اشیاء ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ای سی سی نے سیکرٹری قومی غذائی تحفظ وتحقیق اور وفاقی وزیراقتصادی امورمخدوم خسروبختیارکو صوبوں کے ساتھ ٹریڈنگ کارپوریشن کو بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے پیش کردہ قیمت پر گندم کی کسی بھی مقدارمیں خریداری کے ضمن میں مشاورت کرنے کی ذمہ داری سونپی کیونکہ جولائی اوراگست کے مہینوں میں عالمی سطح پرگندم کی قیمتوں میں کمی کا رحجان غالب رہا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے پہلے سے ہی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو شفاف اوراوپن بین الاقوامی نیلامی پراسیس کے تحت 1.5 ملین ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی ہے تاکہ پنجاب میں 0.70 ملین ٹن، خیبرپختونخوامیں 0.30 ملین ٹن اورپاسکوکے سٹریٹجک ذخائر کیلئے 0.5 ملین ٹن کی ضرورت کو پوراکیا جاسکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت گندم کے 26.05 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں جن میں 25.457 ملین ٹن نئی فصل سے اورگزشتہ سال سے 0.602 ملین ٹن شامل ہیں جبکہ شارٹ فال 1.411 ملین ٹن ہے۔سرکاری شعبہ میں گندم کی فراہمی کی سطح 6.32 ملین ٹن ہے گزشتہ سال یہ 7.55 ملین ٹن کی سطح پرتھی۔ اجلاس میں ملک میں چینی کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے سٹاک ، جس کے نومبر2020ء میں زیادہ کمی کا امکان ہے، کے تناظرمیں نجی درآمد کنندگان کے ذریعہ چینی کی درآمد کی تجویز کابھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلئے نجی درآمد کنندگان پر سیلزٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیز کو کم کیا جائیگا تاکہ پاکستان پہنچنے پراخراجات کو کم سے کم کیا جاسکے۔اجلاس میں کراچی کی بندرگاہوں پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگوکے ڈیمرج کو ختم کرنے کے ایشوکابھی جائزہ لیاگیا اور معاملہ کے احسن اندازمیں حل کیلئے وزارت میری ٹائم افئیرز کو پورٹ حکام اورٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کی تجویز پرجامشوروجائنٹ وینچر لیمیٹد اورسوئی سدرن گیس کمپنی کے زائد المعیاد ایگری منٹ کا جائزہ لیا گیا اوراٹارنی جنرل آفس سے توثیق کی صورت میں جامشوروجائنٹ وینچر لیمیٹد کو ایل پی جی اور ایل این جی کی پیداواردوبارہ بحال کرنے کی اجازت دیدی۔ اس فیصلہ کا مقصد یہ ہے کہ ملکی ایل پی جی کی پیداوارکی صورت میں اس کی درآمد کو کم کیا جاسکے۔اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پرسٹیٹ بینک کے ڈیوڈنڈ کی فکسیشن کا جائزہ لیاگیا اور30 جون کوختم ہونے والے مالی سال 2020 کے بینک کے سالانہ اکاونٹس میں سٹیٹ بینک کے حصص کے 10 فیصد فیس ویلیوکی بنیادپر ڈیوڈنڈ فراہم کرنے کی اجازت دیدی۔








