بیجنگ ۔ 21 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چین کے صوبے حینان میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات کی۔ دونوں وزراء خارجہ نے خطہ میں امن و امان کے حوالہ سے درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل اپنانے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، خطہ میں امن و امان کی صورتحال اور سی پیک سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال ، پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے خلوص نیت کے ساتھ اپنی مصالحانہ کاوشیں کیں، بین افغان مذاکرات کے انعقاد سے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام میں مدد ملے گی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی گفتگو

مزید خبریں
بیجنگ ۔ 21 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چین کے صوبے حینان میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات کی۔ دونوں وزراء خارجہ نے خطہ میں امن و امان کے حوالہ سے درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل اپنانے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو چین کے صوبے حینان میں چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطہ میں امن و امان کی صورتحال اور پاک چین راہداری سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری فیز ٹو کے تحت طے شدہ منصوبوں کی بروقت اور جلد تکمیل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، پاکستان اور چین کے مابین توانائی کے شعبہ میں طے پانے والے 13 ارب ڈالر کے مالیتی منصوبے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت پاک چین لازوال دوستی کو مزید مستحکم بنانے اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کی ہندتوا پالیسی کو پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ چین بھارت متنازعہ سرحدی علاقے مشرقی لداخ میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدام بھارت کی توسیع پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں وزراء خارجہ کا افغان امن عمل اور اس حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے خلوص نیت کے ساتھ اپنی مصالحانہ کاوشیں کیں۔ پاکستان شروع سے مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کے پرامن سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا آ رہا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین افغان مذاکرات کے انعقاد سے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام میں مدد ملے گی۔ دونوں وزراء خارجہ نے خطہ میں امن و امان کے حوالہ سے درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل اپنانے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ نے دورہ چین کی خصوصی دعوت اور بالخصوص حینان جیسے قدرتی حسن سے مزین علاقے میں مدعو کرنے پر چینی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔








