حکومت ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر قانون سازی کرنے جا رہی ہے، اس اہم معاملہ پر بھی اپوزیشن ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاست چمکا رہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر قانون سازی کرنے جا رہی ہے، اس اہم معاملہ پر بھی اپوزیشن ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاست چمکا رہی ہے اور اپوزیشن ایف اے ٹی ایف بل کی آڑ میں این آر …

اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر قانون سازی کرنے جا رہی ہے، اس اہم معاملہ پر بھی اپوزیشن ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاست چمکا رہی ہے اور اپوزیشن ایف اے ٹی ایف بل کی آڑ میں این آر او لینا چاہتی ہے، اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، نواز شریف نے لندن میں علاج تو درکنار ایکسرے تک نہیں کرایا بلکہ ٹیسٹ رپورٹس کے نتائج میں بھی جعلسازی کی، اب وقت آ گیا ہے کہ نواز شریف کو واپس آنا چاہئے، ان پر جو الزامات ہیں اس کا جواب دیں اور اپنے معاملات عدالتوں کے سامنے رکھیں، نواز شریف کو واپس لانے کیلئے تمام قانونی ذرائع اختیار کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے جو طریقہ حکمرانی اختیار کیا اس کے ذریعے اپنے حواریوں کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے اداروں کو مفلوج کیا اور منی لانڈرنگ کو تقویت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچائے اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کرانے کیلئے وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے جس کی وجہ سے حکومت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر قانون سازی کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے حکومت کے بہت سے مذاکراتی ادوار اور اجلاس بھی ہوئے اور کوویڈ۔19 کی صورتحال کی وجہ سے ہمیں کچھ وقت بھی مل گیا تھا لیکن ستمبر میں حتمی پریزنٹیشن دینی ہے جس پر پاکستان کا نام اس فہرست سے نکالنے سے متعلق فیصلہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ پاکستان اس صورتحال سے نکلے جس کیلئے قانون سازی کی جا رہی ہے لیکن اپوزیشن کی طرف سے ملکی مفاد کو دیکھنے کی بجائے ذاتی مفاد کیلئے این آر او مانگا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے 37 نکاتی مطالبات رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ انہیں منی لانڈرنگ کی کھلی چھٹی رہے، انہیں ملک کے حوالہ سے کسی فیصلہ کی کوئی پرواہ نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ اس حوالہ سے فیصلہ پاکستان کے حق میں نہ آیا تو ملک و قوم کو اس کا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے مفاد کو ہر سطح پر تحفظ دیا جائے۔ وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کے 37 نکات کی شکل میں پیش کی گئی دستاویز دکھاتے ہوئے کہا کہ ان 37 نکات میں سے 34 نکات کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور بدعنوانی کی تشریح بھی اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے، اپوزیشن کی مکمل خواہش ہے کہ منی لانڈرنگ کی مکمل اجازت ہو اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو لیکن وزیراعظم عمران خان کا وژن واضح ہے وہ کسی کو بدعنوانی کی اجازت اور این آر او نہیں دیں گے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو فیٹف کے نقصانات کی پرواہ نہیں بلکہ اپنے اور اپنے حواریوں کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر لندن گئے اور ہشاش بشاش کافی پی رہے ہیں، انہوں نے میڈیکل ٹیسٹ میں بھی جعلسازی کی، اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح انہوں نے قانون کا مذاق اڑایا اور بیماری کا بہانہ بنا کر راہ فرار اختیار کی وہ ملک میں واپس آئیں اور جو سوالات ان سے پوچھے گئے ہیں وہ عدالت کے روبرو ان کا جواب دیں، نواز شریف نے لندن میں علاج تو درکنار ایک ایکسرے تک نہیں کرایا اور مولانا فضل الرحمن اور اپنے دیگر ساتھیوں سے رابطہ میں ہیں، ان کا اگر رابطہ نہیں ہے تو صرف شہباز شریف سے نہیں ہے، برطانیہ کی حکومت کو خط لکھیں گے کہ انہیں واپس بھجوایا جائے، حکومت اس حوالہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کرے گی، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کو دیکھنا چاہئے کہ اپوزیشن کا کردار ملک اور عوام دوست ہے یا ملک دشمن، ان کی باتیں اگر مان لی جائیں تو خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز جس سیاست کا سوچ رہی ہیں وہ دور گزر چکا جب یہ سپریم کورٹ پر حملے کیا کرتے تھے، مریم نواز کسی جلسے کیلئے نہیں بلکہ جوابدہی کیلئے آئی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف نے ٹیسٹ میں جعلسازی کے ذریعے عدالت کو دھوکہ دیا ہے، جس ملک کے وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہے انہیں اس ملک کے قانون کا کوئی لحاظ نہیں، عدالتوں کے سامنے اپنی صفائی میں ایک کاغذ جمع نہیں کرا سکے، میڈیکل ٹیسٹ، رپورٹس سمیت تمام چیزوں کی فرانزک بنیادوں پر تحقیقات ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، سابق حکمرانوں نے عمران خان کی ذات کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ملک و قوم کا نقصان کیا ہے، آج ملکی معیشت کی دگرگوں صورتحال اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی، بے روزگاری جیسے مسائل سابق حکمرانوں کی وجہ سے ہی ہیں، اسحاق ڈار نے جعلسازی کے ذریعے ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کیلئے سالانہ 6 ارب ڈالر خرچ کئے جس سے صنعتی پہیہ رکا اور صنعتی پیداوار کی قدر کم ہوئی، ہم ایکسچینج ریٹ کو حقیقی پوزیشن پر لائے ہیں اور پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کو مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہر پالیسی کا محور غریب عوام کی بھلائی ہے، اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو کورونا وبا سے لاحق شدید نقصانات سے بچایا اور وزیراعظم عمران خان نے غریب عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل لاک ڈائون نہیں کیا اور پوری دنیا کے محققین پریشان ہیں کہ کس طرح پاکستان نے ملک کو اس صورتحال سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نیت صاف تھی جو ہماری کامیابی کی وجہ بنی، اس معاملہ پر بھی اپوزیشن نے عجیب منطق ایجاد کی، انہیں لوگوں کے بھوک سے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور حکومت پر مکمل لاک ڈائون کیلئے دبائو ڈال رہی تھی اور اب بھی ایف اے ٹی ایف کے نقصانات سے اپوزیشن مکمل آگاہ ہے لیکن بل کی آڑ میں حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے بل پر ووٹ دینا اپوزیشن کا ہمارے اوپر احسان نہیں ہو گا بلکہ ملک و قوم پر احسان ہو گا، اپوزیشن نے مسئلہ کشمیر سمیت ہر معاملہ پر سیاست کی تاکہ این آر او مانگا جائے، حکومت ہر صورت میں نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانوی حکومت کو خط لکھے گی۔

مزید خبریں