اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت ریاستیں و سرحدی علاقے جات (سیفران) شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 40 سالوں سے افغان مہاجرین کی غیرمعمولی میزبانی کے معاملہ کو دنیا کے سامنے مناسب انداز میں پیش کیا۔ ان کی وزارت نے امداد دینے والے بڑے ممالک پر واضح کیا ہے کہ کو وہ افغان مہاجرین کے لئے مالی اعانت میں اضافہ …
وزیر مملکت ریاستیں و سرحدی علاقے جات شہریار آفریدی نے اپنی وزارت کی دو سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت ریاستیں و سرحدی علاقے جات (سیفران) شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 40 سالوں سے افغان مہاجرین کی غیرمعمولی میزبانی کے معاملہ کو دنیا کے سامنے مناسب انداز میں پیش کیا۔ ان کی وزارت نے امداد دینے والے بڑے ممالک پر واضح کیا ہے کہ کو وہ افغان مہاجرین کے لئے مالی اعانت میں اضافہ کریں گے۔ وزارت کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے افغان مہاجرین کے لئے پہلی بار ڈونر کانفرنس کی میزبانی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، چین ، جنوبی کوریا ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک نے بھی کووڈ۔19 لاک ڈاؤن کے دوران افغان مہاجرین کے لئے خوراک فراہمی کے پیکیج میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے 40 سالوں سے افغان مہاجرین کی غیرمعمولی میزبانی کے معاملہ کو دنیا کے سامنے مناسب انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے ‘افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40 سال’ کی مناسبت سے ایک تقریب کا آغاز اور اہتمام کیا تھا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل (یو این ایس جی) کی پاکستان آمد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو بھی اٹھایا اور یو این ایس جی کو غیر مسلح کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں تین سال کے وقفے کے بعد منعقد کی گئیں جس نے پاکستان ، ایران ، افغانستان اور یو این ایچ سی آر اور افغان مہاجرین کی با عزت وطن واپسی کے لئے سہ فریقی (پاکستان ، افغانستان اور یو این ایچ سی آر) میکانزم کی بحالی میں مدد کی۔








