بھارت میں 2014ء میں وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک مسلمانوں کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازکا بھارت میں اسلامو فوبیہ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بھارت میں 2014ء میں وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک مسلمانوں کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں، بھارتی وزیراعظم کے ہندوتوا اور فاشزم پر مبنی نظریات امن …

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بھارت میں 2014ء میں وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک مسلمانوں کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں، بھارتی وزیراعظم کے ہندوتوا اور فاشزم پر مبنی نظریات امن کیلئے خطرہ ہیں، بھارتی وزیراعظم کو سمجھنا چاہئے کہ بھارت میں اقلیتیں مذہبی منافرت سے تحفظ اور مذہبی آزادی کا مساوی حق رکھتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارت میں اسلامو فوبیہ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی فاشسٹ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ تھے جو نسلی برتری کے نظریے پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں خوف پھیلا کر اپنے ووٹ بینک میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیہ کا تصور ایک مشکل حقیقت رہا ہے تاہم حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسے ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کر رہا ہے جو کہ ان کے سیاسی تسلسل کا آئینہ دار ہے، 2014ء اور 2019ء میں انتخابات میں اس نے کامیابی حاصل کی حالانکہ وہ 2002ء میں گجرات فسادات میں انگنت مسلمانوں کے وحشیانہ قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نام نہاد سیکولرریاست سے صرف ہندو ملک بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو اسلامو فوبیہ سے متعلق اپنے مذموم عزائم پر سوچ و بچار کرنا چاہئے اور انہیں عالمی امن کو دائو پر نہیں لگانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بھارت میں اقلیتیں مذہبی منافرت سے تحفظ اور مذہبی آزادی کا مساوی حق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی سے مودی نے امن کیلئے سنگین عدم استحکام پیدا کر دیا ہے، انہوں نے مذہبی انتہا پسندوں کو طاقتور کیا ہے جنہوں نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف نسل کشی کی پالیسیوں پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سے نہ صرف لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی دائو پر لگی ہے بلکہ ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے جو سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم دو وجوہات کی بناء پر بھارت کے مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی سطح سے مٹانا چاہتے ہیں، ان میں سے مسلمانوں کی تاریخ کو پامال کرنا اور ان کے مذہب کی آزادی، سرکاری امور میں شمولیت اور اقلیت کے طور پر تحفظ جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی ختم کرنے کے ایک سال مکمل کرنے پر رام مندر کی بنیاد رکھی، مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی مسلمان آبادی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دگرگوں ہے، انہیں امتیازی سلوک، حملوں، پولیس کے عدم تحفظ اور شہریت ختم ہونے کا خوف لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں سخت لاک ڈائون ہے اور اس کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ کٹ چکا ہے، وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، متنازعہ ڈومیسائل اور پراپرٹی قوانین نافذ کئے گئے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2019ء میں امتیازی شہریت بل کا اعلان کیا گیا، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ بل (این آر سی) پر عملدرآمد سے لاکھوں مسلمانوں نے عبوری کیمپوں میں بھیجے جانے کے خوف سے اپنی شہریت ثابت کی، آسام میں این آر سی نافذ ہونے کے بعد تمام مسلمانوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی شہریت سے متعلق ثبوت پیش کیا کہ انہوں نے 1971ء سے پہلے بھارت ہجرت کی تاہم بھارت میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کو وہاں رہنے کے حق کے حصول کیلئے اپنے بزرگوں کی قانونی دستاویزات پیش کرنا ضروری ہے جو کہ زیادہ تر مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیہ کی جانب بھارت کی سیاست کا بڑھنا تدریجی اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے، بھارت میں 1992ء میں پہلی بار مذہبی بنیادوں پر تقسیم نظر آئی جب ایودھیہ میں ہزاروں انتہا پسند ہندوئوں نے بابری مسجد پر حملہ کیا، 2002ء میں گجرات فسادات میں مودی کا سیاسی چہرہ واضح طور پر بے نقاب ہو گیا اور انہیں گجرات کے قصاب کا خطاب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے وزیراعلیٰ گجرات کی حیثیت یس جس تشدد کا آغاز کیا تھا وہ آگ کی طرح اب پورے بھارت میں پھیل چکا ہے اور اس وقت وزیراعظم کی حیثیت سے وہ قومی قانون سازی اور بین الاقوامی سیاست میں کردار ادا کر سکتے ہیں بدقسمتی سے مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں، اس وقت یہ اہم بات ہے کہ مودی کا فاشزم کو ہوا دینے کا منصوبہ خطرناک ہو جائے اور ہندوستان کے معاشرے کو تباہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ آج شائننگ انڈیا کا نعرہ لگایا جا رہا ہے حالانکہ بھارت میں اچھوت ذات کے دلتوں کو نشانہ بنایا گیا، گائے کے گوشت کے معاملہ پر مسلمانوں پر تشدد کیا گیا، پولیس اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی اور مسلمانوں کو ان کی پیدائشی شہریت سے محروم کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیہ کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک کو ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔