وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ماسکو میں ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب

ماسکو ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے،ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں۔ عالمی امن و سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔ ترقی، …

ماسکو ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے،ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں۔ عالمی امن و سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کے خاتمہ اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لئے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا چاہیے۔ جمعرات کو ماسکو میں ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ایک طرف دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے تو دوسری جانب اس نے مشترک خطرات اور مسائل سے مل کر لڑنے کی اہمیت کو بھی دو چند کردیا ہے۔ کٹھن حالات ومشکلات کے باوجود ہم نے ایس سی او میں نفع مند اشتراک عمل جاری رکھا ہے جو روسی فیڈریشن کی قیادت میں یک جہتی اور باہمی تعاون کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اپنے قیام کے بیس سال مکمل کرنے کے موقع پر ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں تاکہ ایس سی او کی حقیقی صلاحیت کھل کر سامنے آئے۔ مئی اور جولائی 2020 میں ایس سی او وزرائے خارجہ وصحت کے ورچوئل اجلاس کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے کثیر الملکی، فیصلہ کن اور اشتراک عمل پر مبنی کاوشوں کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے خاص طورپر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے ذریعے اشتراک عمل میں سرفہرست کردار کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کورونا وائرس کی وبا سے موثر انداز میں نمٹنے کے حوالے سے اپنے تجربات سے دنیا کو مستفید کرنے کے لئے تیار ہے جس کی بنا پر آج کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور اموات میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عالمی وبا کو سیاست کے لئے استعمال کرنا اور کسی بھی خطے، مذہب یا طبقے کو اس سے نتھی کرنا یا جھوٹ پر مبنی الزام عائد کرنا بھی غلط ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا آج تیزی سے طاقت کی کثیرالقطبی دنیا میں تقسیم ہورہی ہے۔ پرانی اور نئی طاقتوں کے ابھرنے سے دنیا میں مقابلے کی فضا پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات کو نئی جہات سے ہمکنار کررہی ہے۔ توقع کے عین مطابق یہ عمل ہموار نہیں۔ عالمی قوتوں اور مشترک ترقی کی قوتیں ایک طرف اور یک طرفہ سوچ، تنہائی پسند اور اپنی ذات تک محدود قوتیں دوسری جانب ہیں جن میں باہمی کشاکش نے بے انتہا غیریقینی کی صورتحال پیدا کررکھی ہے۔ ہماری پختہ سوچ ہے کہ غیریقینی اور سفاک مسابقت کے اس ماحول میں ٹکراﺅ کی جگہ تعاون کو عالمی سیاسیات کی رہنما قوت ہونا چاہئے۔ اس تناظر میں ایس سی او جیسے کثیرالملکی فورمز مشعل راہ اور امیدکی کرن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہم ایس سی او کے اس اصرار کی پرزور حمایت کرتے ہیں کہ عالمی امن اور سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہونا چاہئے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں اتفاق رائے کی راہ اپنائی جائے تاکہ سلامتی کونسل عوام کی زیادہ نمائندگی کے ساتھ جمہوری، موثر اور جوابدہی کے پیمانے پر تشکیل پائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کا خاتمہ اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لئے لازمی تقاضا دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ایمانداری سے عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ خطوں کے سٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کی شدید مذمت اور پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے یک طرفہ اقدامات امن وآشتی اور تعاون کا خطے میں ماحول پیدا کرنے کے ہمارے مشترک مقصد کے بھی منافی ہیں جن کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے۔ افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے اور دنیا میں امن اور استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان طویل عرصہ سے کہتا آرہا ہے کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں اور یہ کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کی واحد راہ ہے۔ مشترکہ ذمہ داری کے طورپر پاکستان نے افغانوں کی قیادت میں افغانوں کو قبول امن ومفاہمتی عمل کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اور حمایت کی ہے۔ یہ انتہائی ناگزیرامر ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ہو۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نہایت ضروری امر ہے کہ اندر اور باہر سے ”خرابی“ پیدا کرنے والوں کے کردار سے خبردار رہا جائے جو نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن واستحکام واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کا عمل مشکلات سے پاک نہیں ہوگا۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی عزت ووقار کے ساتھ اپنے گھروں کو واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ہماری اولین ترجیح ہے جس سے ہم نبردآزما ہیں۔ ہمیں کسی ملک کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کو اپنی سیاسی مہم کے لئے ذریعے کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک، مذہب یا نسل کو موردالزام ٹھرائے۔ انہوں نے کہا کہ فسطائیت، عسکریت پسندی اور متشدد قوم پرستی کے خلاف فتح کی 75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں اعادہ کرنا ہوگا کہ انتہا پسندی، دیگر اقوام اوراسلام سے نفرت وبیزاری کے رویوں کی آج کی دنیا میں کوئی گنجائش نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایرانی جوہری معاملے پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے موثر عمل درآمد کے ایس سی او شراکت داروں کے موقف میں شریک ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خلا کو اسلحہ کی دوڑ سے بچانے، بائیولاجیکل ہتھیاروں کے کنونشن (بی۔ڈبلیو۔سی) اور انٹرنیشنل انفارمیشن سکیورٹی پر ایس سی او کا غوروخوض اس ضمن میں بحث کے لئے سود مند ہوگا اور ہمیں ان معاملات پر یکساں موقف اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بی۔آر۔آئی‘ کا ہراول منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی رابطوں اور معاشی میلاپ کے ایس سی او کی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ انفراسٹرکچر نیٹ ورک اور توانائی منصوبوں، صنعتی پارکس کے امتزاج سے سی پیک پاکستان، خطے اور دنیا کے لئے معاشی خوشحالی کا باعث بنے گا۔ سی پیک کے تحت خاص طورپر معاشی اقتصادی زونز سرمایہ کاری کے لئے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم بی آر آئی اور سی پیک سمیت ترقیاتی منصوبہ جات کو جیوپولیٹیکل تنگ نظر زاویوں سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایس سی او یوتھ کونسل کا نیا رکن بننے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ہم ایس سی او کے ذریعے مسلسل پھیلتے اور نمو پاتے شعبہ جات میں فعال تعاون کا فروغ جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں میں متعدد سفارشات پیش کیں۔

مزید خبریں