ماسکو۔ 11ستمبر(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ماسکو کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ ہوگئے۔ دومو دیدوو ائر پورٹ، ماسکو پر ماسکو میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان، ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کے سینئر افسران اور روسی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ،روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کی دعوت پر …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد ماسکو سے وطن واپس روانہ

مزید خبریں
ماسکو۔ 11ستمبر(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ماسکو کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ ہوگئے۔ دومو دیدوو ائر پورٹ، ماسکو پر ماسکو میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان، ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کے سینئر افسران اور روسی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ،روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کی دعوت پر روس کا دورہ کیا۔ وزیر خارجہ نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کی۔ اس دو روزہ دورہ کے دوران وزیر خارجہ نے ماسکو میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور علاقائی روابط کے فروغ، غربت کے خاتمے اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے اہم تجاویز شرکا اجلاس کے سامنے رکھیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں وزیر خارجہ کے خطاب کو بہت سراہا گیا۔وزیر خارجہ نے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر پر ، روس، چین، تاجکستان ،کرغزستان کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں ۔ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون کے فروغ اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے اپنی دو طرفہ ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور افغانستان میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کاوشوں کو اجاگر کیا۔ واضح رہے کہ وزرائے خارجہ کونسل، کونسل برائے سربراہان مملکت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کا سب سے اہم فورم ہے۔ وزیر خارجہ نے روسی وزیر خارجہ کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں بھی شرکت کی۔وزیر خارجہ نے ماسکو قیام کے دوران روسی، پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کی اور مختلف علاقائی اور عالمی امور کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کیا۔توقع ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں علاقائی روابط کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے وزیر خارجہ کا یہ دورہ روس انتہائی سود مند ثابت ہو گا۔








