لاہور۔11ستمبر (اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لئے شفاف پولیس نظام وقت کی اہم ضرورت ہے، پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں رہی، معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، …
امن و امان قائم رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لئے شفاف پولیس نظام وقت کی اہم ضرورت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان

مزید خبریں
لاہور۔11ستمبر (اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لئے شفاف پولیس نظام وقت کی اہم ضرورت ہے، پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں رہی، معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالیہ واقعہ بھی اسی کا نتیجہ ہے،شرمناک ہے کہ ہائی وے پر شہریوں کی حفاظت کا موثر نظام موجود نہیں،ملک میں ایسا لگتا ہے جیسے محکمہ پولیس کا کنٹرول نا اہل لوگوں کے پاس ہے جس نے ملک کا امن و امان تباہ کر دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام کمرشل و اوورسیز کورٹس ججز کے لئے منعقدہ چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے،ہائی وے پر کوئی سکیورٹی سسٹم اور میکانزم نصب نہیں کیا گیا،حکومت فوری پولیس کی ساکھ بحال کرے اورمحکمہ پولیس کو اپنے مسائل حل کرنے اور نئے اقدامات کرنے دے،سیاسی مداخلت سے کوئی بھی پولیس فورس پروفیشنل طریقے سے کام نہیں کر سکتی،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت محکمہ پولیس کی ساکھ کو بحال کرے اور پولیس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا راستہ روکے، پنجاب پولیس میں ہونے والے تبادلے اس بات کی علامت ہے کہ پولیس کے محکمے میں کس قدر سیاسی مداخلت ہے۔ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی،اس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا جب تک پولیس فورس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پولیس کمسن غیر پیشہ ورانہ افراد کے ہاتھ میں ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ آج ہمارا یہاں اکٹھا ہونا ہمارے سرمایہ کار اور کاروباری طبقے کے لئے بہترین اقدامات کو یقینی بنانا ہے، ملکی معیشت کا بڑا انحصار سرمایہ کاری پر ہے،کاروباری معاملات میں مختلف مراحل پر مسائل پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے،کاروباری معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تاکہ انہیں حل کیا جاسکے. انہوں نے کہا کہ کاروباری معاملات کا عدالتوں میں لٹک جانا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے،جن ممالک میں بہترین عدالتی نظام موجود ہوتا ہے وہاں سرمایہ کاری بھی زیادہ آتی ہے،اگر ہم سرمایہ کاری میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام وقت کا اہم تقاضا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی زیر نگرانی قائم ورکنگ گروپ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور انویسٹمنٹ بورڈ کی رہنمائی کررہا ہے۔کمرشل عدالتوں میں جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کےلئے بہترین کیس مینجمنٹ سسٹم بھی ضروری ہے،ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سادہ کمرشل معاملہ زیادہ سے زیادہ 6 ماہ میں حل ہو جائے،لاہور ہائیکورٹ نے بہترین اقدام کرتے ہوئے پنجاب کے 5 اضلاع میں ماڈل کمرشل کورٹس قائم کی ہیں،سرمایہ کاروں اور کارباری طبقے کو پولیس سے متعلقہ مسائل پولیس اپنی سطح پر جلد اور میرٹ پر حل کرے۔یاد رکھیں ہم سب نے مل کر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کے انعقاد پر ورلڈ بنک، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور پی آئی یو کے مشکور ہیں، انہوں نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ٹریننگ کورس مکمل کرنے والے ججوں کی صلاحیتوں میں نکھار آئے ہوگا. موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عدالتوں اور ججز کو جدید خطوط پر استوار کریں، ججز کے سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہنا چاہیے، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ججز کو تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے بغیر کوئی بھی قانون کوئی معنی نہیں رکھتا، عدالتیں ہی کسی بھی ملک میں کسی بھی قانون کے نفاذ کو یقینی بناتی ہیں اور آئین میں موجود تمام حقوق کی یقینی بنانے میں عدالتیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے ججز کو بہترین اور جدید تربیت فراہم کرنے والے ججز، وکلاءاور ماہرین کے مشکور ہیں۔ کمرشل کورٹس اور اوورسیز کا قیام وقت کا اہم تقاضا ہے. چیف جسٹس پاکستان کی رہنمائی میں پہلے مرحلے میں پنجاب کے پانچ اضلاع میں کمرشل ماڈل کورٹس قائم کی گئی ہیں۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو آسان اور معیاری انصاف کی فراہمی سے ہی ملکی ترقی ممکن ہو سکے گی۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ آج بانی پاکستان کا یومِ وفات ہے اور آج ہی ہم انکے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کی منازل طے کرتا دیکھنا قائداعظم کا خواب تھا اور کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہاں سرمایہ کاری کےلئے سازگار ماحول نہ ہو. انہوں نے کہا کہ پاکستان اندرون و بیرون سرمایہ کاروں کو متعدد سہولیات فراہم کررہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کےلئے عدالتوں میں کاروباری معاملات پر جلد اور معیاری فیصلے بہت ضروری ہیں۔ کمرشل مقدمات میں عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے کےلئے لاہور ہائیکورٹ نے متعدد اقدامات کئے ہیں۔جسٹس شاہد کریم کا اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کاروباری معاملات میں اے ڈی آر سسٹم خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ اس حوالے سے سہولیات فراہم کررہا ہے۔ شفاف تجارت سے کاروباری حضرات کا اعتماد بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بڑھانے کا بنیادی پہلو شفاف اور پر اعتماد عدالتی نظام ہوتا ہے، اس حوالے سے پنجاب حکومت سرمایہ کاروں کے لئے مستقل لاءکمیشن بھی قائم کرے جو وقتاً فوقتاً اس سارے مراحل کی نگرانی کرے۔جسٹس جواد حسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر کاروباری مقدمات کو نمٹانے میں بہت پیچھے ہے جبکہ پاکستانی آئین میں کمرشل کنٹریکٹس کے حوالے سے مکمل قوانین اور تحفظ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر پنجاب میں خصوصی کمرشل کورٹس بنائی گئی ہیں اور ان کمرشل کورٹس میں زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کے ساتھ ساتھ جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ فاضل جج نے کہا کہ پاکستان بہت جلد دنیا کی بہترین کمرشل کورٹس کی فہرست میں شامل ہو جائے گا، پاکستان میں کاروباری معاملات کےلئے بہترین قانون سازی موجود ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستانی اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے بھی خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں کیونکہ جب تک اوورسیز پاکستانیوں کے لئے آسانیاں نہیں ہونگی تو بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھایہ نہیں جا سکے گا…اختتامی سیشن سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کمرشل اور اوورسیز مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کو قائم کیا ہے اور ابتدائی مرحلے میں پانچ اضلاع میں کمرشل و اوورسیز کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی میں کمرشل و اوورسیز مقدمات کےلئے کورٹس قائم کی گئی ہیں اور کمرشل و اوورسیز کورٹس میں تعینات ججز کےلئے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیتی کورس منعقد کیا جارہا ہے۔ کمرشل مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے کارباری طبقے کو بہت سہولت ہوگی، چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے ججز، حاضر و ریٹائرڈ جوڈیشل افسران اور معروف وکلاءسمیت دیگر ماہرین نے لیکچرز دیئے۔تقریب کے اختتام پر ٹریننگ کورس مکمل کرنے والے ججز، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر معاونین کو شیلڈز بھی دی گئیں۔








