یورپی یونین کی پاکستان میں سفیر اندورولہ کامنارہ کی سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی): یورپی یونین کی پاکستان میں تعینات سفیر اندورولہ کامنارہ نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین پارلیمانی اور اقتصادی تعاون بڑھانے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی): یورپی یونین کی پاکستان میں تعینات سفیر اندورولہ کامنارہ نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین پارلیمانی اور اقتصادی تعاون بڑھانے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پارلیمانی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے کر انہیں مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے شروع کئے جانے والے پارلیمانی پارٹنرشپ پروگرام کو سراہتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس پروگرام ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمانی عمل میں بھرپور کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے یورپی یونین کی طرف سے پارلیمانی نظام کے استحکام کے لئے شروع کئے جانے والے گزشتہ پروگرام کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے ارکان پارلیمنٹ اور پارلیمانی عملے کی استعداد کار میں اضافہ ہوا۔ سپیکر نے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کی یورپی ممالک کی منڈیوں تک آسان رسائی میں یورپی یونین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے حصول سے پاکستان کی معیشت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ سپیکر نے ملکی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی، صنعتی اور تجارتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور سی پیک کے تحت صنعتوں کے قیام سے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اقتصادی اور صنعتی شعبہ کے لیے سرمایہ کار دوست پالیسیاں وضع کر رہی ہے جن سے یورپی یونین کے سرمایہ کار مستفید ہو سکتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس نے ہمیشہ بین الاقوامی معاملات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان پرامن افعانستان اور خطہ کے امن اور ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن افغانستان نہ صرف افغان عوام کی ترقی و خوشحالی بلکہ خطہ میں دیرپا امن کے قیام کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی ترقی اور خوشحالی اور خطہ کے امن کے لئے افغان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے مابین پارلیمانی اور تجارتی تعلقات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے پارلیمان کی جاب سے افغانستان کے لیے نئی ویزہ پالیسی کے اجرا، تجارتی مراعات، دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور عوامی سطح پر رابطہ میں اضافہ کے سلسلہ میں اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ یورپی یونین کی سفیر اندورولہ کامنارہ نے سپیکر قومی اسمبلی کا یورپی یونین کے لیے تاثرات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پورپی یونین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پاکستان کے ساتھ سماجی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے معیار کے بدولت پاکستانی مصنوعات کی یورپی یونین کی منڈیوں میں مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ سے اتفاق کرتے ہوئے ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ یورپی یونین کی سفیر نے پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی تعاون بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں قائم یورپی یونین مشن اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی خصوصاً بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں یورپی یونین کے تعاون کو جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی 5 پروگرام عمل درآمد کے مراحل میں ہے اور اس پروگرام سے ارکان پارلیمنٹ کی ان کے حلقہ انتخاب میں عوامی مسائل کو حل کرنے میں کارکردگی بہترہوگی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کی شراکت سے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔