پاکستان اور جرمنی کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، جرمنی پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم، گورننس، پائیدار ترقی اور مائیکرو فنانس سیکٹر میں مفید معاونت فراہم کر رہا ہے، خسرو بختیار

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان بہترین تعلقات قائم ہیں، جرمنی پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم، گورننس، پائیدار ترقی اور مائیکرو فنانس سیکٹر میں مفید معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان میں جرمنی کے سفیر سے ملاقات میں کہی۔ملاقات میں کورونا کے خاتمہ کے بعد کی صورتحال اور پاکستان میں …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان بہترین تعلقات قائم ہیں، جرمنی پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم، گورننس، پائیدار ترقی اور مائیکرو فنانس سیکٹر میں مفید معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان میں جرمنی کے سفیر سے ملاقات میں کہی۔ملاقات میں کورونا کے خاتمہ کے بعد کی صورتحال اور پاکستان میں جرمنی کے جاری پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے وبائی امراض کے دوران پاکستان کو جی۔ 20 ڈیبٹ سروس معطلی انیشیٹو (DSSI) کے تحت تقریباً 99 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کرنے پر جرمنی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے توانائی، صحت، تعلیم، گورننس، پائیدار ترقی اور مائیکرو فنانس سیکٹر میں 3 ارب ڈالر مالیت کے جرمنی کے ساتھ جاری معاشی تعاون کو بھی سراہا۔ خسرو بختیار نے گورننس، شفافیت اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے احتساب سمیت کلیدی امور پر موجودہ حکومت کی جانب سے اصلاحی ایجنڈے کی تفصیلات سے سفیر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے گذشتہ سال جرمنی میں منعقدہ اجلاس کے دوران توانائی، پائیدار اقتصادی ترقی اور گورننس سے وابستہ مختلف منصوبوں پر جی 2 جی مذاکرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس سال اسلام آباد میں اس فورم کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی اور کہاکہ مستقبل میں صحت، انسانی وسائل کی ترقی، آب و ہوا کی تبدیلی اور گرین ماحولیاتی ٹیکنالوجی، رہائش، سیاحت اور ای گورننس کی طرف فوکس کرنے کی ترجیح کے شعبے میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ وزیر نے 2021ـ26کے لئے جرمنی کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ یہ پاکستان کے لئے فائدہ مند ہوگا اگر یہ فریم ورک حکومت پاکستان کے مشورے سے مرتب کیا جائے اور، ڈونر، جی او پی اور عملدرآمد کرنے والے شراکت داروں کو مربوط کرنے کے رئیل ٹائم معلومات کا تبادلہ اور نگرانی کی جائے اس سے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے گا۔ سفیر نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ملک میں کووڈ۔19 کو روکنے کے لئے ”سمارٹ لاک ڈاون” کی حکمت عملی کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے مابین جی ٹو جی مذاکرات کے ذریعے پاک جرمنی پورٹ فولیو کو بڑھانے کے لئے وفاقی وزیر کی طرف سے تجویز کردہ نکات پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی مستقبل میں پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے اور وبا کے بعد کی صورتحال میں پورٹ فولیو کو مستحکم بنایا جائے گا۔