اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے، میری ساری زندگی کی جدوجہد اور مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اسلئے ان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا، پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تو نواز شریف نے عدلیہ …
سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے، میری ساری زندگی کا مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے، صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے، میری ساری زندگی کی جدوجہد اور مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اسلئے ان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا، پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تو نواز شریف نے عدلیہ پر حملہ کیا، اب انہوں نے فوج کو نشانے پر رکھ دیا ہے جو کہ بدقسمتی ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاست کو سیاست کے طور پر اور کرپشن کو عدالتوں میں ہینڈل کریں، بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، یہ ہائوسنگ اور انڈسٹرلائزیشن کیلئے اچھا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے، کراچی میں ٹرانسپورٹیشن، سیوریج، سولڈ ویسٹ اور پانی کی سپلائی چار بڑے مسئلے ہیں، اتنی حکومتیں آئیں لیکن کراچی کے مسائل کم نہ ہوئے، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کی ترقیاتی کیلئے پیکیج سے مطمئن ہوں، سارے ذمہ داری وفاق اٹھا لے تو پھر صوبائی حکومتوں کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی، ترقیاتی پیکیج پر عمل درآمد ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے اس سے برآمدات میں گروتھ ہو گی، بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے، بھارت افغانستان میں امن نہیں چاہتا، افغانستان میں امن نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کو اسٹریٹیجک حب کی بجائے اکنامک حب کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ احتجاج کرنا اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے، پر امن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، اپوزیشن جماعتوں کے گزشتہ سال لانگ مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا، اپوزیشن کے مارچ سے کورونا بڑھنے کا خطرہ ہے، انہیں مشورہ ہے کہ ماسک پہن کر احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ میرا مقابلہ وزیراعظم عمران خان سے نہیں بلکہ اداروں کے ساتھ ہے جو کہ نامناسب بات ہے، اس وقت نواز شریف کا جو بیانیہ ہے وہی بھارت کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور دیگر لیگی رہنمائوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے وزیراعظم نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا، پاکستان آزاد ملک ہے کوئی بھی ذاتی تشہیر کیلئے ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے، کہیں پر جعلی ایف آئی آر بھی کٹوائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، جزیروں سے متعلق آرڈیننس پر وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون فروغ نسیم سے بات ہوئی، فروغ نسیم سے کہا کہ آرڈیننس میں ماحول کے حوالے سے ذکر نہیں، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، مینگرو کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ پلانٹیشن کی جائے گی، یہ ہا?سنگ اور انڈسٹریلائزیشن کے حوالے سے بڑا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے، ہزاروں فلیٹس بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق اگر کسی پراپرٹی کا اونر نہیں تو وہ صوبائی حکومت کی ہے لیکن کراچی پورٹ قاسم اتھارٹی بنڈل آئی لینڈ کی آنر ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی کا ایکٹ کہتا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کے انڈر ہے، پورٹ قاسم کے علاوہ کوئی اور پلاننگ اور ڈویلپمنٹ نہیں ہو گی، پورٹ میں اگر کچھ کرنا ہے تو وہ اتھارٹی ہی کرے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں دہشتگردی عروج پر تھی، ہمارے گھر کے باہر بھی فائرنگ ہوتی تھی اور دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں، بھتے کیلئے فون بھی آتے تھے اور مجبوراً ہمیں رینجرز کو کال کرنی پڑتی تھی، کراچی کے شہریوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب حالات بہت بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کی ترقی کے حوالے سے سندھ حکومت کا کنٹرول ہے، ساری ذمہ داریاں فیڈریشن اٹھا لے تو پھر صوبے کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی،کراچی صوبہ سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا، اتنی حکومتیں آئیں لیکن پھر بھی کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے اور حالیہ بارشوں نے کراچی کے مسائل کو مزید اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کیلئے اعلان کردہ تاریخی ترقیاتی پیکیج سے مطمئن ہوں، پیکیج پر عمل ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے ترقی کی، انہوں نے پیسے کی بجائے انسٹی ٹیوشن کی بنیاد پر ترقی کی، کراچی کے اندر گورننس اسٹرکچر اور ذمہ دار لوکل گورنمنٹ کی ضرورت ہے جو ٹیکس جمع کرنے اور ترقیاتی کام کروانے کے حوالے سے آزاد ہو کیونکہ سب سے بڑی خامی کرپشن ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے، گوادر کے ذریعے ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ حاصل ہو گا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پہلے ہی گوادر ٹرانسفر کر دی گئی ہے جس سے ہماری برآمدات کے حوالے سے گروتھ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایری گیشن سسٹم دنیا کا منفرد سسٹم ہے، دنیا میں شاید کہیں بھی پاکستان جتنا گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم نہیں ہے، پاکستان میں گیس کی قلت ہے ہمیں گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے، ترکمانستان کے صدر کی کالی آئی تھی، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بارڈر تک پائپ لائن تیار کر لی ہے، ہرات سے گیس ملتان آئے گی، ترکمانستان کے صدر سے کہا ہے کہ آپ ہم سے ریٹ مناسب طے کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہترین تعلقات ہیں لیکن وہاں پر امن ضروری ہے، افغانستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کیلئے ضروری ہے، بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے اسلئے وہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور صدر عوامی مفاد اور دلچسپی کے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے ان کو مصنوعی ذھانت (اے ا?ئی)کی تربیت فراہم کرنا،انفارمیشن ٹیکنالوجیز اور پاپولیشن کی ٹاسک فورسز کی تشکیل وغیرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ نے ملک میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور اس مہم میں میں ان کی مدد کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے آئی ٹی ٹاسک فورس کا سربراہ بنایا ہے، تمام حکومتوں کی وزارتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا، عوام کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔








