اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے کہاہے کہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا، سوشل میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کرداراداکرنا چاہئیے، بیماری کی جلد تشخیص سے علاج ممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں فاطمہ جناح پارک ایف نائن میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی واک کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے …
چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا، سوشل میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کرداراداکرنا چاہئیے، بیگم ثمینہ علوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے کہاہے کہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا، سوشل میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کرداراداکرنا چاہئیے، بیماری کی جلد تشخیص سے علاج ممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں فاطمہ جناح پارک ایف نائن میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی واک کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کا اہتمام پنک ربن اوروزارت قومی صحت خدمات و ریگولیشنز نے کیا تھا۔اس موقع پرخواتین ارکان پارلیمان سمیت طالبات، لیڈی ہیلتھ ورکرز اورنرسوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجودتھیں۔خاتون اول نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کی اس واک کا مقصد خواتین میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے شعور وآگہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین میں چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی پھیلانا اشدضروری ہے کیونکہ اگربیماری کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہوجائے تو اس کا علاج ممکن ہوتاہے اسلئے ہمیں اس بیماری میں جلد تشخیص کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری سے بحالی کی شرح 98 فیصد تک ہے، پاکستان میں یہ شرح اسلئے بھی کم ہے کیونکہ اکثراوقات خواتین فطری شرم کے باعث اپنے گھروالوں کو اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بتانے سے کتراتی ہے جس کی وجہ سے بیماری کی تشخیص میں تاخیرہوجاتی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ خواتین بالخصوص نوجوان بچیوں کو اس بارے میں آگاہی فراہم کی جائے کہ اس بارے میں بتانا کوئی ٹیبونہیں بلکہ جلد تشخیص سے اس بیماری کا علاج ممکن ہے اسلئے اس بیماری کی علامات کوکسی بھی صورت میں نظراندازنہیں کرنا چاہئیے، حکومت خواتین کیلئے ایک کال سینٹربھی بنارہی ہے جہاں خواتین اس بیماری کے بارے میں بلاجھجھک بتاسکے۔انہوں نے کہاکہ پنک ربن کی تحریک کئی سالوں سے چل رہی ہے اورہمارے لئے خوشی کامقام ہے کہ اب اس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اورنرسز بھی شامل ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ 35 سال کی عمر کے بعد خواتین کیلئے میموگرافی ضروری ہے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اس حوالہ سے مفت تشخیص کی سہولت موجودہے۔انہوں نے کہاکہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا، سوشل میڈیا اوراراکین پارلیمان سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپناکردار اداکرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ خواتین میں چھاتی کے سرطان بارے آگاہی کیلئے وہ ملک کے تمام صوبوں میں جارہی ہے اورہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم اس بیماری کے بارے میں شعور پھیلانے میں اپنا کرداراداکرے۔ قبل ازیں پنک ربن کی ڈاکٹرعائشہ نے مہمان خصوصی کا خیرمقدم کیا اورکہاکہ واک میں ان کی شمولیت سے سب کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ بعدازاں خاتون اول نے قیادت کرتے ہوئے واک میں حصہ لیا۔








