معاون خصوصی وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی میڈ یا سے گفتگو

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):معاون خصوصی وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ، بعض ممالک میں قید اور بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ وزیر اعظم اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور روابط کیلئے ذاتی طور پر کوشاں ہیں ، …

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):معاون خصوصی وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ، بعض ممالک میں قید اور بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ وزیر اعظم اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور روابط کیلئے ذاتی طور پر کوشاں ہیں ، مسلم امہ کے مسائل کا حل وحدت اور اتحاد میں ہے۔بین المسالک رواداری اور بین المذاہب مکالمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے ، اسلامک فوبیا کا خاتمہ چاہتے ہیں ، کوئی مذہب انتہاپسندی اور دہشت گردی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہت مضبوط ہیں ان میں کمزوری نہیں آ سکتی۔ یہ بات انہوں نے میڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اسلامی ممالک کو داخلی طور پر انتشار میں مبتلا کر کے کمزور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تمام اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔ عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ عرب اسلامی ممالک میں قید پاکستانیوں کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں ، وہ قیدی جن پر معمولی مقدمات یا جرمانے ہیں ان کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں امید ہے کہ معمولی مقدمات میں ملوث مزید پاکستانیوں کی رہائی کے عمل کی ترتیب طے ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کے بارے میں موقف واضح ہے ، ہم مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں ، اگر پاکستان کے دوست ممالک میں سے کوئی اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو وہ اس کی پالیسی ہے ، پاکستان اپنے دوست ممالک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی کرنی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے متفقہ مسائل ، کشمیر ، فلسطین کا فوری حل ، دہشت گردی ، انتہا پسندی ، فرقہ وارانہ تشدد ، عرب اسلامی ممالک میں بیرونی مداخلت کا خاتمہ ، انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں سے بلاد اسلامیہ کا تحفظ اس پر سب کو متفق ہونا چاہیے۔ جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں کمزوری کی باتیں بے وقوف لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب تعلقات انتہائی مستحکم تھے ، ہیں اور رہیں گے۔ گذشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سعودی وزیر خارجہ امیر فیصل کی گفتگو کے بعد جاری ہونے والا بیان پاکستان کے سعودی عرب کے استحکام اور سلامتی کے حوالہ سے موقف کو واضح کر رہا ہے۔سعودی عرب کی سلامتی و استحکام ہر مسلمان کیلئے اہم ہے، سعودی عرب سے ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان میں امن کیلئے کوششوں کا پورا عالم معترف ہے۔ ہم نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی راہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب ذمہ داری افغان قیادت پر ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کریں۔ افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے ، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے افغانستان کے امن کیلئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر تمام اسلامی ممالک کے قائدین سے وہ رابطہ کر رہے ہیں اور کشمیر و فلسطین کے مسئلہ پر مسلم مذہبی و سیاسی قائدین کی عالمی کانفرنس پاکستان میں بلائی جائے گی۔