اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ریاست کو متحد رہنا چاہئے، پاکستان جیو سٹرٹیجک اکنامک حب ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت ہے، قومی سطح پر علماءکے ساتھ اچھے روابط ہیں۔ پیر کو نجی ٹی وی کو اپنے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب …
سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ریاست کو متحد رہنا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کیں، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ریاست کو متحد رہنا چاہئے، پاکستان جیو سٹرٹیجک اکنامک حب ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت ہے، قومی سطح پر علماءکے ساتھ اچھے روابط ہیں۔ پیر کو نجی ٹی وی کو اپنے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کیں، بھارت نے ہر فورم پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا مگر وہ خود ذلیل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت سے ہی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم الطاف کے لوگوں نے بھارت سے تربیت اور فنڈنگ لینے کا اعتراف کیا، کراچی کے حالات خراب کرنے میں بھی بھارت ملوث ہے، مودی نے خود کہا کہ مشرقی پاکستان میں کردار ادا کیا اور سازشیں کرکے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف طریقوں سے سازشیں کر رہا ہے، بھارت دہشت گردی سے انکار کرتا ہے مگر درحقیقت دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ بھی بھارت کے خراب تعلقات ہیں، پاکستان کے اندر سیاسی قوتوں کو سمجھنا چاہئے کہ حملہ باہر سے ہے اور انہیں دشمنوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اسلحہ کی دوڑ میں بھی سرفہرست ہے۔ صدر نے کہا کہ ہائبرڈ وار سے متعلق بھارت نے پاکستان کے خلاف سازش کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان جیو سٹرٹیجک اکنامک حب بن رہا ہے، افغانستان میں امن سے پاکستان کے راستے تجارت ہو گی جس سے بھارت پریشان ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدرمملکت نے کہا کہ صحت، کوویڈ۔19 اور مساجد میں ایس او پیز اور خواتین کے حقوق کے حوالہ سے علماءکا کردار قابل تعریف ہے، علماءاور ریاست کے درمیان اس وقت زیادہ روابط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یکساں تعلیمی نظام اور قومی سوچ کے حوالہ سے بھی ان کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے کشمیر کاز پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ پر اپوزیشن کی تنقید افسوسناک ہے، ملکی اداروں کو بدنام کرنے میں پاکستان کا نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے جتنی کوششیں کیں وہ اپوزیشن کو قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانوں سے پیسہ نکلوایا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پانامہ کیس کے دوران سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا۔ صدر نے کہا کہ ملک میں ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور گذشتہ ماہ کی نسبت اس ماہ ترسیلات زر میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے جو معاشی استحکام اور حکومتی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے








